سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 53 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 53

53 ان کے لئے دردمندانہ دعاؤں میں لگا رہتا ہے۔دوسری طرف بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کا شدید جذ بہ اس کے دل کو ہمیشہ گداز رکھتا ہے۔وہ بنی نوع انسان کی بے راہ روی اور غفلت کو دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندر گھل رہا ہوتا ہے کہ نوع انسان کا کیا بنے گا۔پھر آپ نے فرمایا ہمدردی نوع انسان کے اس شدید جذ بہ کے ماتحت ہی میں یورپ کا سفر اختیار کر رہا ہوں۔جو کل صبح شروع ہونے والا ہے۔میرا یہ جذبہ مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں یورپ کے لوگوں تک وہ بات پہنچاؤں جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کو دی اور دنیا کا ایک بڑا حصہ اب تک اس سے غفلت اور لا پرواہی برت رہا ہے اور یکسر بے خبری کی حالت میں ہے۔خطاب کے بعد حضور نے دعا کروائی اور پھر مسجد مبارک میں موجود ہزاروں افراد سے مصافحہ فرمایا۔اس کے بعد نماز عشا ء ادا کی گئی۔ے جولائی ۱۹۶۷ء کی صبح کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث بذریعہ ریل گاڑی ربوہ سے کراچی روانہ ہوئے۔اسٹیشن پر حضور کی آمد سے ربوہ اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے ہزاروں احباب جمع تھے اور اس سفر کی کامیابی کے لئے دعاؤں میں مشغول تھے۔ساڑے نو بجے حضور قصر خلافت سے روانہ ہوئے اور بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی عیادت کے لئے ان کی کوٹھی البشری تشریف لے گئے۔اور پھر وہاں سے دعا کے لئے بہشتی مقبرہ گئے اور وہاں پر حضرت ام المؤمنین، حضرت مصلح موعودؓ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دیگر بزرگان کی قبروں پر دعا کی اور اس کے بعد اسٹیشن تشریف لے آئے۔وہاں پر ایک انتظام کے تحت ہزاروں احباب قطاروں میں کھڑے حضور کی آمد کے منتظر تھے۔حضور کو دیکھتے ہی ان احباب نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر، اسلام زندہ باد اور حضرت امیر المؤمنین زندہ باد کے پُر جوش نعرے لگائے۔اس کے بعد جن کو گزشتہ روز موقع نہیں ملا تھا ان لوگوں نے شرف مصافحہ حاصل کیا۔پیچھے کھڑے ہوئے احباب کے لئے حضور کی زیارت کرنا ممکن نہیں تھا اس لئے حضور از راہ شفقت ایک کرسی پر کھڑے ہو گئے تا کہ تمام مشتاقان دیدار آپ کی زیارت کر سکیں۔اور اس دوران آپ زیر لب دعاؤں میں مشغول رہے۔جب یہ اطلاع ملی کہ گاڑی ربوہ کے قریب ترین اسٹیشن پر پہنچ گئی ہے تو حضور نے ہاتھ اُٹھا کر زیر لب دعا کروائی۔جب گاڑی ربوہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو آپ اپنے قافلہ کے ہمراہ گاڑی پر سوار ہوئے۔جب گاڑی نے چلنا شروع