سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 608 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 608

608 اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں جماعت پھیلی ہوئی ہے۔ساری دنیا میں ہمارے جو مبلغ ہیں انہیں میں نے لکھا کہ چونکہ دعوت کے جواب میں میں نے کیتھولکس کو بھی شامل کیا ہے اس لئے آپ بڑے پیار کے ساتھ انہیں تبادلہ خیال کے لئے بلائیں۔اپنے جواب میں بھی میں نے لکھا تھا کہ پیار کے ساتھ اور امن قائم رکھتے ہوئے اس قسم کے تبادلہ خیالات ہونے چاہئیں۔چنانچہ کیتھولکس بشپس کو بھی دنیا کے مختلف حصوں میں لکھا گیا اور ان کا رد عمل یہ تھا کہ اکثر نے جواب ہی نہیں دیا۔جنہوں نے جواب دیا ان میں ایک جاپان کے کیتھولک بشپ ہیں، ایک برلن کے کیتھولک بشپ ہیں اور بعض اور ہیں جن کے علاقوں کے نام مجھے یاد نہیں۔انہوں نے صاف طور پر یہ لکھ دیا کہ مسیح کی خدائی پر ہمارا پختہ عقیدہ ہے اسلئے ہم اس معاملہ پر آپ سے کسی قسم کی بات کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔(۳) اسی خطبہ جمعہ میں حضور نے اپنے خطاب کی تیاری کے متعلق فرمایا : اس کا نفرنس میں سب سے آخر میں میں نے بولنا تھا۔اور میرے لئے مسئلہ یہ تھا کہ سوائے دعا کے اور میں کچھ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اگر اس کو ایک کتاب کہیں تو کتاب کے بہت سے باب ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نہ کسی مقرر نے ان ابواب کے عنوان کے ماتحت چھوٹے سے چھوٹے مضمون کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا تھا۔۔۔۔چنانچہ ایک دن ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے دماغ کھول دیا۔پہلے میں فرینکفرٹ میں قریباً بیس بائیس دن رہا تھا وہاں بھی دماغ کھل نہیں رہا تھا۔میں نوٹ لکھتا تھا لکھواتا تھا لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی آخر جب خدائے عزیز وکریم کا فضل نازل ہوا اور میں نے مضمون مسلسل لکھوانا شروع کر دیا اور خدا نے بڑا فضل کیا کہ وہ ایسا مضمون ہو گیا جس قسم کا میں خدا کے فضل سے امید رکھتا تھا کہ مجھے عطا ہو جائے گا۔اس سلسلہ میں ایک بات خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ہی کفن مسیح کے متعلق عیسائی دنیا میں بحث چل پڑی تھی۔ویسے تو یہ دیر سے کفن دکھا رہے ہیں لیکن انیسوی صدی میں بھی انہوں نے دو تین دفعہ اس کی زیارت کروائی اور ستر ستر اسی اسی لاکھ آدمی ہر زیارت پر وہاں گئے اور انہوں نے زیارت کی اور اخباروں میں اس کا چرچا ہوا۔سب کچھ ہوا لیکن حضرت مسیح موعود