سلسلہ احمدیہ — Page 601
601 حضرت عیسی کی صلیب سے نجات پر لندن میں کانفرنس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے قبل مسلمان اور عیسائی دونوں اس عقیدہ میں مبتلا تھے کہ حضرت عیسی اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔اور عیسائیت نے اس خیال کی بنیاد پر کہ حضرت عیسی صلیب پر ان کے گناہوں کے کفارہ کے لئے وفات پاگئے اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اور پھر اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، اپنے مشرکانہ عقائد کو دنیا بھر میں پھیلایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عقیدہ کی بنیاد پرحملہ فرمایا اور روشن دلائل سے ثابت فرمایا کہ حضرت عیسی کی صلیب پر وفات ہوئی ہی نہیں تھی اور نہ ہی وہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے تھے۔ان دلائل سے کفارہ کے عقیدہ کا بطلان خود بخود ہو جاتا ہے۔اپنی وفات سے ایک روز قبل نماز عصر سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح کے مسئلہ پر ہی تقریر فرمائی۔اور یہ کسی مجلس میں آپ کی آخری تقریر تھی۔موقع یہ تھا کہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ وہ بعض مسائل پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی عرض کی کہ پاس ادب سے گفتگو کریں گے۔اس ضمن میں کسی دوست نے یہ عرض کی کہ وہ اس بات کے قائل نہیں کہ حضرت عیسی کو سولی پر لٹکایا گیا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسئلہ وفات مسیح پر ایک مختصر تقریر کی۔اس کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: افسوس ہے ان نام کے مسلمانوں پر کہ اپنی ناک کاٹنے کے واسطے آپ ہی دشمن کے ہاتھ میں چھری دیتے ہیں۔یاد رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا اور قرآن وحدیث میں حقیقتاً یہی امر اس نے بیان کیا ہوتا کہ واقعہ میں حضرت مسیح زندہ ہیں اور وہ مع جسم عصری آسمان پر بیٹھے ہیں اور یہ عقیدہ بھی حضرت مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کی طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک سچا عقیدہ ہوتا تو ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی کوئی نہ کوئی نظیر پیش کر کے قوم نصاری کو اس امر کے حضرت مسیح کی خدائی کی دلیل پکڑنے سے بند اور لا جواب کر دیتا۔مگر خدا تعالیٰ کے اس امر کی دلیل پیش نہ کرنے سے صاف عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر گز ہر گز یہ