سلسلہ احمدیہ — Page 600
600 آپ کا شفیق وجود جماعت احمدیہ کے لئے بہت سی برکات رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت اعلیٰ پائے کا ادبی ذوق عطا فرمایا تھا۔آپ کا مجموعہ کلام در عدن آپ کی ادبی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر آپ کی تقاریر اور مضامین جماعت کے علمی سرمایہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کا انتقال ۱۹۴۷ء میں ہو گیا تھا۔آپ نے اس صدمہ کو بلند حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔۱۹۷۶ء میں ہی آپ کی طبیعت بہت زیادہ کمزور رہنے لگی تھی۔ایک طویل علالت کے بعد آپ ۲ ۲ اور ۲۳ مئی ۱۹۷۷ء کی درمیانی شب اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئیں۔اگلے روز حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے بہشتی مقبرہ کے احاطے میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہزاروں احباب نے اس جلیل القدر ہستی کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔۱۰ رجون ۱۹۷۷ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خطبہ جمعہ میں آپ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ہمارے لئے دوصد مے اوپر نیچے آئے پہلے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ہماری محتر مہ پھوپھی جان کی وفات ہوئی اور پھر چند دن کے بعد محترم ابوالعطاء صاحب کی وفات ہوئی۔آپ سب مرد و زن اور چھوٹے بڑے اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم بت پرست نہیں ہیں۔ہم خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاتے ہیں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے متعلق آپ نے فرمایا کہ آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میری یہ بچی بہت خواہیں دیکھتی ہے اور کثرت سے یہ خواہیں بچی نکلتی ہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کا ایک جلوہ ہے کہ ایک بچی جس پر ابھی شاید نمازیں بھی فرض نہیں ہوئی تھیں اللہ تعالیٰ کا اس سے یہ سلوک ہے کہ اسے کثرت سے اپنی قدرت کے نظارے دکھاتا ہے۔پھر ساری عمر اللہ تعالیٰ نے آپ سے پیار اور محبت اور فضل اور رحمت کا سلوک کیا اور انہوں نے کبھی بھی اسے اپنی کسی خوبی کا نتیجہ نہیں سمجھا بلکہ دل میں یہی خیال پیدا ہوا کہ یہ خدا کی عطاء ہے۔میں ہر دو کی بات کر رہا ہوں یعنی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ابوالعطاء صاحب کے متعلق ان کے روئیں روئیں سے یہ آواز نکلی لا فخر (۵) (۱) تذکره ص ۳۳۸ (۲) تذکره ص ۲۷۷ (۳) مصباح دسمبر ۲۸ جنوری ۱۹۷۹ ء ص ۲۶ (۴) اخبار بدر ۲۷ فروری ۱۹۰۸ ء ص ۲ (۵) الفضل ۲۹ جون ۱۹۷۷ ء ص ۲، ۳