سلسلہ احمدیہ — Page 592
592 فرمایا۔اس اجلاس میں تبلیغ اسلام کے متعلق منصوبے پیش کئے گئے۔حضور نے اس امر کی نشاندہی فرمائی کہ اس پر عملدرآمد کے لیے اس بات کی بنیادی اہمیت ہے کہ ان پر کتنے اخراجات ہوں گے اور اس کے لئے کتنی مدت درکار ہوگی۔اور ان منصوبوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اس کے بعد حضور نے امریکہ کی مختلف جماعتوں کے چندوں کی تفاصیل دریافت فرمائیں اور چندوں کی وصولی کے نظام میں بعض خامیوں کی نشاندہی فرما کر ہدایات دیں۔اس اجلاس میں ایک تجویز یہ پیش کی گئی تھی کہ امریکہ سے جنوبی امریکہ کے ممالک اور کیوبا اور میکسیکو میں تبلیغ کی جائے۔اس بارہ میں آراء سننے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا کہ جنوبی امریکہ میں تبلیغ آپ لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے پہلے شمالی امریکہ میں اپنے آپ کو منظم کریں۔اور تمام آمد پیدا کرنے والے احباب سے حسب شرح چندہ وصول کر کے اپنے آپ کو مضبوط کریں۔اور جہاں بھی تین یا تین سے زیادہ احباب موجود ہوں وہاں انہیں جماعت کی صورت میں منظم کیا جائے۔امریکہ میں پریس قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور یہ بھی تجویز کیا گیا کہ اس کے لئے ایک احمدی کو ٹریننگ دلائی جائے۔اس پر رپورٹ تیار کرنے کے لئے حضور نے ایک کمیٹی قائم فرمائی اور فرمایا کہ مجوزہ پریس کا اکنامک یونٹ ہونا ضروری ہے۔کتابوں کی اشاعت کے متعلق حضور نے دو احباب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ یہ جائزہ لیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کون سی کتب کا انگریزی ترجمہ ہونا ضروری ہے۔اور فرمایا کہ مستورات سے بھی مشورہ لیا جائے۔اور فرمایا کہ قرآنِ کریم اور مختصر تفسیر کے کم از کم پچاس ہزار نسخے شائع کر کے اس ملک میں جلد از جلد تقسیم ہونے چاہئیں۔نئی مساجد کی تعمیر کی تجویز کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا کہ مساجد ہماری جماعتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کی تعمیر کے لئے مقامی طور پر رقم مہیا ہونی چاہئے۔جماعت کی تربیت کی تجویز پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہاں کے احمدیوں سے رابطہ کر کے انہیں فعال احمدی بنایا جائے اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ عہد یداروں اور احباب جماعت کے درمیان ذاتی رابطہ نہ ہو۔۲۷ جولائی کو حضور نے دو صحافیوں کو انٹرویو دیا۔ان میں سے ایک Miss Lavonia Perryman تھیں جو ریڈیو کی نمائندہ تھیں۔دوسرے Mr۔John Novotnay تھے۔جب حضور سے سوال کیا گیا کہ اسلام کے پاس عیسائیت سے بڑھ کر کیا ہے جو انسان کے لئے پیش کی گئی ہے۔جب کہ عیسائی بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ عیسائیت قبول کرنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے