سلسلہ احمدیہ — Page 584
584 میں آئی تو اس نے جماعت احمدیہ کی مخالفت میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی تھی۔بلکہ یہ نمایاں احمدیوں کو اپنی تقریبات میں مدعو بھی کرتے تھے۔بلکہ جب ان کی آئین ساز کمیٹی بنی تو اس کے صدر خود جماعت کے مبلغ جلال الدین قمر صاحب ہی تھے۔لیکن پھر مسلم سپریم کونسل کا رویہ بھی بدلنے لگا۔انہوں نے جماعت کے مشن کو کہا کہ وہ اپنے آپ کو مسلم سپریم کونسل کے تحت رجسٹر کرا ئیں۔لیکن جماعت احمدیہ نے اصولی طور پر اس سے انکار کر دیا۔۲۳ مارچ ۱۹۷۵ء کو عیدی امین صاحب عید میلادالنبی کی ایک غیر سرکاری تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔کچھ احمدی بھی اس تقریب میں شامل تھے۔انہوں نے جیب سے ایک کاغذ نکالا اور یہ اعلان پڑھا کہ وہ یوگینڈا میں جماعت احمدیہ پر پابندی لگا رہے ہیں۔جب وہ یہ اعلان پڑھ رہے تھے تو وہ جماعت احمدیہ کا نام بھی بدقت پڑھ پائے تھے۔اور یہ نام پڑھنے میں انہیں تیسری کوشش میں کامیابی ہوئی تھی۔اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ اعلان کسی اور کے ایماء پر کیا جارہا ہے ورنہ صدر تو جماعت سے اتنا بھی واقف نہ تھے کہ نام بھی صحیح پڑھ پاتے۔اس اعلان میں عیدی امین صاحب نے یہ بھی کہا کہ احمدیوں نے قرآن کریم کا ترجمہ اضافوں کے ساتھ شائع کیا ہے اور جنہوں نے یہ نسخے خریدے ہیں وہ انہیں مسلم سپریم کونسل کے پاس جمع کرائیں تا کہ انہیں نذر آتش کر دیا جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ احمدی برطانیہ اور امریکہ کے اشاروں پر یہ سب کام کر رہے ہیں۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ خود عیدی امین صاحب ایک طویل عرصہ برطانوی فوج میں ملازم رہے تھے اور اس کی طرف سے مشرقی افریقہ میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کی کاوشوں کا بھی حصہ رہے تھے۔تمام ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوگئی لیکن سرکاری گزٹ میں اس خبر کو ۱۹۷۶ ء کے اواخر میں شائع کیا گیا۔شام کو مکرم چوہدری محمود صاحب ، منیر احمد منیب انصاری صاحب، زکریا کریٹو صاحب اور سلمان مو آنجے صاحب مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک فوجی افسر کیپٹن موسیٰ صاحب آگئے اور تلخ کلامی شروع کر دی۔لیکن ان احباب نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔صبح کو مسلم سپریم کونسل کی طرف سے شیخ کالیسا (Kalisa) صاحب جو کہ سعودی عرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے کئی لوگوں کے ساتھ جماعت کی مسجد واقعہ وانڈے گیا ، کمپالہ آئے اور وہاں پر موجود احباب جماعت سے کہا کہ حکومت کے فیصلے کے مطابق یہ مسجد اب مسلم سپریم کونسل کی ملکیت ہے۔اور وہ احمدی جو کمپالہ میں