سلسلہ احمدیہ — Page 576
576 شام پانچ بجے جیل میں رپورٹ کرے گا۔وہ بھٹو صاحب کی لاش کے فوٹو لے گا( تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ختنے ہوئے تھے یا نہیں ؟ ) ( مجھے سرکاری طور پر بتایا گیا تھا کہ مسٹر بھٹو کی ماں ہندو عورت تھی جو ان کے والد نے زبردستی اپنالی تھی اور مسٹر بھٹوکا پیدائشی نام نتا رام تھا اور غالباً ان کے ختنے نہیں کرائے گئے تھے ) پھانسی اور غسل کے بعد اس فوٹوگرافر نے بھٹو صاحب کے جسم کے درمیانی حصہ کے نزدیکی فوٹو لئے تھے۔پڑھنے والوں کے لئے میں بتادوں کہ بھٹو صاحب کا اسلامی طریقہ سے با قاعدہ ختنہ ہوا تھا۔‘(۲۵) بھٹو صاحب کا کسی سے لاکھ اختلاف ہو لیکن اس وقت کا یہ قدم سوائے بیہودگی کے اور کچھ نہیں تھا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اس سے صرف حکم جاری کرنے والوں کی نیچ ذہنیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔جب ریاست اور حکومت اس بحث میں الجھ جائے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں تو اس کا انجام اس قسم کی نا معقول اور قابل نفرت حرکات پر ہی ہوتا ہے کہ ایک مردہ آدمی کی نعش کو برہنہ کر کے یہ دیکھا جائے کہ اس کے ختنے ہوئے تھے کہ نہیں۔گویا اس کے مسلمان ہونے کی ایک ہی دلیل رہ گئی کہ اس کے ختنے ہوئے تھے کہ نہیں۔بھٹو صاحب نے اپنی وصیت لکھی لیکن پھر اسے جلا دیا اور کہا کہ وہ اپنے خیالات کو مجتمع نہیں کر پا رہے۔جب پھانسی کا وقت آیا تو وہ کئی روز کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے اور اس مرحلہ کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکے تھے۔ان کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔وہ اس قابل نہیں تھے کہ خود چل کر پھانسی کی جگہ تک جا سکیں۔انہیں پہلے اُٹھایا گیا اور پھر سٹریچر پر لٹایا گیا وہ پھانسی گھاٹ تک بالکل بغیر حرکت کے رہے۔پھانسی دینے والے تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھا دیا اور ان کے ہاتھ پشت پر باندھ دیئے گئے۔اس کی تکلیف کی وجہ سے ان کے منہ سے صرف یہ نکلا کہ ” یہ مجھے “۔رات کے دو بیج کر چار منٹ پر لیور د بادیا گیا اور ان کا جسم ایک جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنویں میں گر پڑا۔پاکستان میں اور مسلمان ممالک میں بہت سے سیاستدان سیاست کے میدان میں سرگرم ہیں۔بہت مرتبہ انہیں اس قسم کے سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کریں یا پھر احمدیوں کے خلاف تحریک کا حصہ بن کر ان پر ظلم کا دروازہ کھول کر ملا سے تعاون کریں تو اس سے ان کو بہت سیاسی فائدہ ہوگا۔اور کم از کم ملا طبقہ تو ان کا