سلسلہ احمدیہ — Page 573
573 کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔(۱۹) اور یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔جو آگ ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف بھڑ کائی گئی تھی، اس وقت کے وزیر اعظم کا آشیانہ بھی بالآخر ان کے شعلوں کی نذر ہو گیا۔دوسرے روز کے بعد بھی بھٹو صاحب کا بیان دو روز مزید جاری رہا۔۲۱ دسمبر کو بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان ختم کیا۔ان دنوں میں بھٹو صاحب اس نازک وقت میں اپنی پارٹی کی کارکردگی سے بھی مایوس ہوتے جا رہے تھے۔ان کی جیل میں متعین کرنل رفیع صاحب تحریر کرتے ہیں۔دو لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا بھٹو صاحب کچھ مایوس سے ہوتے گئے۔اوائل ۱۹۷۹ء میں وہ اپنی پارٹی سے جو امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ بر نہیں آرہی تھیں۔ایک دن وہ کچھ مایوسی کے عالم میں مجھ سے کہنے لگے کہ وہ حرامزادے کدھر ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ہم اپنی گردنیں کٹوا دیں گے ( اپنی انگشت شہادت گردن کی ایک طرف سے دوسری طرف کھینچتے ہوئے) میرے خیال میں وہ دن ایسے تھے (فروری مارچ ۱۹۷۹ء) جب بھٹو صاحب اپنی پارٹی سے مایوس ہوتے جارہے تھے۔(۲۱) سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پھانسی سپریم کورٹ کی کارروائی ختم ہوئی تو فیصلہ کا انتظار شروع ہوا۔جو کئی ہفتہ تک طول کھینچ گیا۔بالآخر ۶ فروری ۱۹۷۹ء کو صبح گیارہ بجے کورٹ فیصلہ سنانے کے لئے جمع ہوئی۔سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل مستر د کر دی تھی۔اور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا۔فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔چار ججوں نے پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، ان کے نام جسٹس انوار الحق (چیف جسٹس جسٹس نسیم حسن شاہ ، جسٹس اکرم اور جسٹس چوہان تھے۔اور تین جوں یعنی جسٹس صفدر شاہ ،جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس حلیم نے فیصلہ سے اختلاف کیا تھا۔بھٹو صاحب نے تحمل سے جیل میں فیصلہ کی خبر سنی۔ان کے وکلاء نے ریویو پیٹیشن داخل کی لیکن یہ بھی مسترد ہو گئی۔بیرونی دنیا کے بہت سے