سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 572 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 572

572 میں یہ فیصلہ کرے۔لیکن جماعت احمدیہ کا یہ موقف نظر انداز کر دیا گیا۔آج آپ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ کسی ادارے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے تو پھر ۱۹۷۴ء میں آپ کی حکومت کا وہ فیصلہ کسی طور پر میچ نہیں کہلا سکتا۔لیکن بھٹو صاحب اپنے سابق عمل اور موجودہ بیان میں تضاد یکھ نہیں پارہے تھے۔اسی نکتہ پر اپنا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے اپنی خدمات گنوائیں اور ان میں اسلام کی یہ خدمت بھی گنوائی کہ ان کے دور میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کیا گیا تھا۔بھٹو صاحب نے عدالت میں اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مجھے نام کا مسلمان قرار دیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جناب والا اگر آپ نام کے مسلمان کے مسئلے پر جاتے ہیں تو پھر میں ایک ایسا شہری ہوں جس کا کوئی ملک نہیں۔کیونکہ یہ شہریت دستور میں ایک مسلمان یا اقلیتوں کو فراہم کی گئی ہے۔یہ شہریت اس جانور کو نہیں دی جاسکتی جو نام کا مسلمان ہو۔میں نہیں جانتا اور کتنے لوگوں کو اس درجہ بندی میں شامل کر کے انہیں بے ملک بنا دیا جائے گا اور اگر ہم بے ملک لوگ بنادیئے گئے تو ہم کہاں جائیں گے۔(۱۸) بہت خوب۔بہت مؤثر انداز بیان ہے بہت مضبوط دلائل ہیں۔لیکن یہاں پر ایک سوال اُٹھتا ہے۔وہ جماعت جو کہ کلمہ گو ہے اور اور اس کا عقیدہ ہے کہ وہ مسلمان ہے۔اور وہ کسی اور مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ایک روز دوسو کے قریب سیاستدان بیٹھتے ہیں اور یہ مضحکہ خیز فیصلہ کرتے ہیں کہ اب سے قانون کی رو سے یہ جماعت مسلمان نہیں ہے۔بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ اس ملک کے آئین میں شہریت کے حقوق یا مسلمان کے لئے ہیں یا پھر غیر مسلم کے لئے تو پھر کیا ۱۹۷۴ء کا فیصلہ کرنے سے پہلے انہوں نے سوچا تھا کہ یہ جماعت اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں سمجھتی ایسا کہنا یا سمجھنا اس کے ضمیر کے خلاف ہے، اس کے بنیادی عقیدہ کے خلاف ہے تو پھر اس کی شہریت کے حقوق کا کیا بنے گا۔ایک نامعقول فیصلے نے خود آپ کے بیان کردہ معیار کے مطابق ان کو شہریت کے حقوق سے محروم کر دیا۔۱۹۷۴ء میں اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے جماعت احمدیہ نے ایک محضر نامہ میں اپنا موقف بیان کیا تھا۔اور اس میں کرتا دھرتا افرادکو ان الفاظ میں متنبہ کیا تھا ” ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا صورتیں عقلاً قابل قبول نہیں ہوسکتیں اور بشمول پاکستان دنیا