سلسلہ احمدیہ — Page 571
571 بتا سکتے ہیں کہ ہمارے نزدیک لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے یہ پیراگراف غیر متعلقہ ہیں۔(۱۷) لیکن یہ ایک قانونی مسئلہ ہے۔یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے تار ماضی قریب اور ماضی بعید کے بہت سے تاریخی واقعات کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔اور اس کتاب کے پڑھنے والے کو شاید یہ محسوس ہورہا ہو کہ اس جیسے دلائل کا تذکرہ چند سال پہلے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے گزر چکا ہے لیکن اس وقت یہ دلائل کسی اور طرف سے پیش کئے جارہے تھے اور اب جو ملزم بن کے کھڑے تھے اس وقت وہ اپنے زعم میں منصف بنے ہوئے تھے۔بھٹو صاحب ایک قد آور شخصیت تھے اور ایسی قد آور شخصیات کے اہم بیانات ہوا میں گم نہیں ہو جاتے۔تاریخ ان کا بار بار تجزیہ کرتی ہے۔بھٹو صاحب کا یہ بیان واقعی بہت اہم ہے۔ہم اس کے ایک ایک جملے کا تجزیہ کریں گے۔بھٹو صاحب نے ، اس وقت جب وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہ کہا کہ ایک مسلمان کہلانے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ اس کی نیت پر شک کرے۔تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر ۱۹۷۴ء میں بھٹو صاحب اور ان کی حکومت نے یہ قدم کیوں اُٹھایا کہ ایک سیاسی اسمبلی کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ ایک جماعت ، ایک فرقہ مسلمان ہے یا نہیں۔اور یہ جماعت ایک کلمہ گو جماعت ہے۔اسمبلی کئی روز کھڑکیاں دروازے بند کر کے غیر متعلقہ کا روائی میں الجھی رہی اور اصل موضوع پر بات کا خاطر خواہ آغاز بھی نہیں کر سکی۔اور اگر ہر کلمہ گو قانون کی رو سے مسلمان ہے اور کسی کو اس نیت پر شک کرنے کا حق نہیں تو پھر ۱۹۷۴ء میں آئین میں ترمیم کر کے ایک سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیوں کیا اب پاکستان میں قانون کی رو سے لاکھوں کلمہ گو مسلمان شمار نہیں ہوں گے۔ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بڑا زور دے کر یہ بات کہی کہ کسی فرد کسی ادارے یا عدالتی بینچ کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شخص کو کہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے اور یہ بھی کہا اور بالکل درست کہا کہ مذہب خدا اور انسان کے درمیان معاملہ ہے۔کسی انسان کو اس میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہے۔ہم کچھ دیر کے لئے ۱۹۷۴ء کی طرف واپس جاتے ہیں جب جماعت احمدیہ کی طرف سے قومی اسمبلی کے تمام اراکین کو اور حکومت کو ایک محضر نامہ بھجوایا گیا جس میں جماعت احمدیہ کا موقف بیان ہوا تھا کہ قومی اسمبلی کو نہ یہ اختیار ہے اور نہ اسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی جماعت یا کسی شخص کے مذہب کے بارے