سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 568 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 568

568 ملبوس تھے۔لیکن یہ سوٹ ان پر ڈھیلا لگ رہا تھا۔اسیری کے دنوں میں ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی تھی اور ان کا وزن خطرناک حد تک گر چکا تھا۔پہلے کچھ دیر بیٹی بختیار صاحب نے اپنے دلائل کو مکمل کیا۔پھر بھٹو صاحب اپنی معروضات پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔بھٹو صاحب قابل شخص تھے۔اس سے کوئی انکار نہیں۔وہ ایک نہایت عمدہ مقرر بھی تھے۔سپریم کورٹ میں ان کی تقریر جو ان کی آخری تقریر ثابت ہوئی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ تقریر چار روز جاری رہی۔سینکڑوں مصنفوں ، قانون دانوں اور محققین نے اپنے طور پر اس کا جائزہ لیا ہے۔ہم بھی اس کے چند پہلوں کا جائزہ پیش کریں گے۔پہلے روز بھٹو صاحب نے اپنے اس دفاع کا خلاصہ پیش کیا جو انہوں نے آئیندہ آنے والے دنوں میں پیش کرنا تھا۔بولتے بولتے ان کا رنگ زرد ہو جاتا تھا اور ان کے ماتھے پر پسینہ آجاتا تھا۔انہوں نے اس بات کی شکایت کی کہ جیل میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے۔یہ ذکر شروع کرنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ میں موت کی کوٹھری میں بند ہوں جس کا رقبہ ۷ × ۱۰ فٹ ہے۔میں غیر ملکی افراد کے سامنے اس حقیقت کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جو مجھ پر بیت چکی ہے۔میں اپنے جسم پر نشانات یا ایسی چیزیں لوگوں کے سامنے دکھانا پسند نہیں کروں گا۔کوٹ لکھپت جیل میں کئی روز ان کے ساتھ کی کوٹھریوں میں پاگلوں کو رکھا گیا جن کی چیچنیں انہیں سونے نہیں دیتی تھیں۔راولپنڈی میں مجھے پریشان کرنے کے لئے یہ ترکیب نکالی گئی کہ کوٹھری کی چھت پر پتھر پھینکے جاتے تھے جن کا شور مجھے سونے نہیں دینے دیتا۔اور گزشتہ رات بھی مجھے سونے نہیں دیا گیا۔یہ مصائب بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔پہلے روز کی کارروائی کے اختتام پر بھٹو صاحب نے کہا کہ اگلے روز وہ بات کا آغاز نام کے مسلمان کے مسئلہ سے کریں گے اور کہا کہ میں ان پیرا گرافس کا حوالہ دوں گا جو اس موضوع پر ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے پر شامل کئے ہیں۔جو پیراگراف ۲۰۹ سے ۲۱۵ تک محیط ہیں۔دوسرے روز ان کے بیان میں پہلے دن سے زیادہ روانی تھی۔اس روز وہ خرابی صحت اور رنگت کے زرد ہو جانے کے باجود روانی سے اپنا بیان دے رہے تھے۔ایک مرحلہ پر ان کے وکیل نے ان کے کان میں کہا کہ اب انہیں رک جانا چاہئے تو انہوں نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں لیکن مجھے اپنا بیان