سلسلہ احمدیہ — Page 567
567 میں اس دور میں بھٹو صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درج کیا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں :۔احمدیہ مسئلہ : یہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی دفعہ کچھ نہ کچھ کہا۔ایک دفعہ کہنے لگئے رفیع یہ لوگ چاہتے تھے کہ ہم پاکستان میں ان کو وہ رتبہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع کیا احمدی آجکل یہ کہہ رہے ہیں کہ میری موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بددعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کوٹھری میں پڑا ہوا ہوں۔ایک صلى الله مرتبہ کہنے لگے کہ بھئی اگر ان کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ تو حضرت محمد مصطفی علوم آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے ہی اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کر دے۔‘ (۲۰) اپیل کا آغاز ۲۰ مئی ۱۹۷۸ء کو ہوا۔پہلے دن کی معروضات کے اختتام پر یچی بختیار صاحب نے کہا کہ میری اپیل کی بنیاد یہ ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے، گھڑا ہوا ہے اور سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور یہ بھٹو صاحب کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہے۔اور انہیں ایک منتخب وزیر اعظم ہوتے ہوئے اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا تا کہ انہیں سیاسی طور پر اور جسمانی طور پر ختم کر دیا جائے۔ان کے اس آغاز نے عدالت میں ایک کھلبلی مچادی۔ایک بار پھر بیرونی ہاتھ کا تذکرہ کیا جارہا تھا۔اس کے ساتھ سپریم کورٹ میں ایک طویل کا رروائی کا آغاز ہوا۔جس میں دونوں طرف سے دلائل کا تبادلہ ہوا۔ہم اس تمام تذکرے کو چھوڑ کر آخر میں ایک اہم حصہ کی طرف آتے ہیں۔یعنی جس روز بھٹو صاحب کے وکلاء نے ان کی طرف سے دلائل نہیں دیئے تھے بلکہ خود بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی معروضات پیش کیں۔یہ اٹھارہ دسمبر ۱۹۷۸ء کا دن تھا۔جس کمرہ میں اس مقدمہ کی سماعت ہوئی تھی وہ آج کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بھٹو صاحب جب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو ان کے حامی احتراماً کھڑے ہو گئے۔بھٹو صاحب ایک خوش لباس شخص تھے۔آج بھی وہ ایک نفیس سوٹ میں