سلسلہ احمدیہ — Page 545
545 ربوہ کی زمین کا کچھ حصہ قومیایا جانا ربوہ کی زمین صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے حکومت پنجاب سے خریدی تھی۔زمین کا سودا 9966 ہوتے ہوئے با قاعدہ شرائط طے ہوئی تھیں۔ان میں ایک شرط یہ تھی کہ زمین احمدیہ کالونی جس کا نام ربوہ “ ہوگا بنانے کے لئے صدر انجمن کو فروخت کی جارہی ہے۔مورخہ 1949-11-30 کواس معاہدہ پر حکومت اور انجمن کی طرف سے دستخط کئے گئے۔ربوہ کی ٹاؤن پلاننگ کا نقشہ باقاعدہ منظور ہوا۔اس پلاننگ کے تحت پلاٹ بنا کر احمدیوں کو 99 سالہ پٹہ پر دیئے گئے۔حکومت پنجاب نے مورخہ 22 نومبر 1975ء کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا کہ گورنر پنجاب نے ربوہ میں کم آمدنی کے لوگوں کے لئے 156ایکڑ پر محیط رقبہ پر ہاؤسنگ سکیم کی منظوری دی ہے۔اس سکیم کے محل وقوع کو ظاہر کرنے کے لئے نوٹیفیکیشن میں صرف یہ درج کیا گیا کہ اس مطلوبہ زمین کے مشرق میں ریلوے لائن جنوب میں دریا شمال میں ربوہ کی آبادی اور مغرب میں سٹرک ہے۔اس پہلے نوٹیفیکیشن کے بعد Land Acquisition Collector سرگودھا کی طرف سے ایک اور نوٹیفیکیشن مورخہ 11 دسمبر 1975 ء کو جاری کیا گیا جس میں زمین کی تفصیل خسرہ نمبر وغیرہ کے حساب سے دے کر متاثرہ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے معاوضہ کے مطالبہ جات جمع کرا دیں۔مورخہ 23 دسمبر 1975ء کو ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جو کہ 27 دسمبر کو شائع ہوا کہ DC جھنگ نے فیصلہ کیا ہے کہ زمین فوری طور پر درکار ہے اس لئے Acquistion of Land - 1973 Housing) Act) کی دفعہ 13 کے تحت کولیکٹر Housing and Physical Planning سرکل لائلپور کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ فی الفور اس زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے۔یہ امر مد نظر رہے کہ حکومت یہ زمین 1973 Acquistion of Land (Housing) Act کے تحت Acquire کر رہی تھی۔اس لئے اس قانون کی تمام شقوں کا اطلاق اس Acquistion پر بھی ہوتا ہے۔اس لئے جو عدالت میں رئیس (Writs) دائر کی گئیں وہ بھی اس قانون کو مد نظر رکھ کر