سلسلہ احمدیہ — Page 526
526 قومی اسمبلی کا فیصلہ اسمبلی میں کارروائی شروع ہونے سے قبل یہ تو واضح نظر آرہا تھا کہ حکومت اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے جماعت احمدیہ کو آئین میں غیر مسلم قرار دینے کا پکا ارادہ کر چکی ہے۔پیپلز پارٹی کے قائد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور ان کی پارٹی غیر مذہبی رجحانات کے لیے شہرت رکھتی تھی اور ان کے سیاسی مخالفین اس بات کو ان کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے تھے۔اور اب بھٹو صاحب یہ سمجھتے تھے کہ احمدیوں کے خلاف فیصلہ کر کے وہ مذہبی حلقوں میں بھی مقبولیت حاصل کر لیں گے اور ان کے مخالفین کے ہاتھ میں ان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے یہ ہتھیار نہیں رہے گا اور اس طرح ان کی پوزیشن بہت مستحکم ہو جائے گی۔اپوزیشن میں بہت سی نام نہاد مذہبی جماعتیں موجود تھیں وہ تو ایک عرصہ سے اس بات کے لیے تگ و دو کر رہی تھیں کہ کسی طرح احمد یوں کو نقصان پہنچایا جائے اور آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں جن کے نتیجے میں احمدیوں کے بنیادی حقوق بھی محفوظ نہ رہیں۔قومی اسمبلی میں موجود تمام گروہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے کر اپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۲۰ / اگست کو جسٹس صمدانی نے ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ پر اپنی تحقیقات وزیراعلیٰ پنجاب کے سپرد کیں اور وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اب صوبائی حکومت اس پر غور کر کے اسے وفاقی حکومت کی طرف بھجوائے گی تا کہ اسے قومی اسمبلی کی اس خاص کمیٹی میں پیش کیا جا سکے جو کہ قادیانی مسئلہ پر غور کر رہی ہے (۱)۔اس رپورٹ سے کوئی اتفاق کرتا یا اختلاف کرتا یہ الگ بات ہوتی لیکن اس رپورٹ کو بھی اس سارے تنازعہ کی دوسری باتوں کی طرح خفیہ رکھا گیا۔جسٹس صدانی صاحب نے عرصہ بعد جب اپنی یادداشتیں لکھیں تو اس کتاب میں اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا اس انکوائری سے متعلق مجھے دو باتیں اور بھی لکھنی ہیں تا کہ عوام میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہو جائیں۔پہلی بات تو یہ کہ انکوائری اس لیے کرائی گئی کہ عوام میں جو شدید رد عمل تھا وہ دور ہو لیکن جب انکوائری مکمل ہو گئی اور حکومت پنجاب کو رپورٹ دے دی گئی تو وہ