سلسلہ احمدیہ — Page 509
509 چاہتے تھے تو پھر ان ناقابل تردید شواہد سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان، ہندوستان کے علماء اور مسلم لیگ، یہ سب اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ایک مرحلہ پر جب کہ اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ جو Annexures دیئے جارہے ہیں وہ بھی پرنٹ ہو کر ممبران کو دیئے جا رہے ہیں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ ہمیں کیوں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے ہمیں بھی تو کارروائی کی ایک کاپی ملنی چاہئے۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ نہیں یہ تو Secret ہے اور پھر اصرار پر اس موضوع کو ٹال گئے۔ایک وقفہ سے پہلے حضور نے سپیکر صاحب سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میرے وفد کے اور اراکین بھی کچھ سوالات کے جوابات دے دیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔جب وقفہ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور ابھی حضور ہال میں تشریف نہیں لائے تھے کہ رکن اسمبلی احمد رضا خان قصوری صاحب نے سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ آج جب وہ وقفہ کے دوران اپنے گھر جارہے تھے۔تو ایک جیپ سے ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔گو وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے کہ ان پر یہ قاتلانہ حملہ کرنے والا کون تھا؟ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس کی ایف آئی آر تھانے میں درج کرادی ہے۔لیکن ان دنوں کے اخبارات میں اس کا ذکر کوئی نہیں ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ اس کے بعد ان پر ایک اور قاتلانہ حملہ بھی فی الحقیقت ہوا تھا اور اس قاتلانہ حملہ میں ان کے والد نواب محمد احمد خان صاحب گولیاں لگنے سے جان بحق ہو گئے تھے۔اور اس کا الزام اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب پر لگایا گیا تھا اور جب ان کا تختہ الٹنے کے بعد ان پر اس کا مقدمہ چلایا گیا تو انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔اور اس کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔اس بات کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے کہ جب پہلے دن اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے خلاف ہونے والے فسادات پر بحث ہوئی تو وزیر اعظم کے منہ سے ایسا جملہ نکلا تھا جو انکے خلاف اس مقدمہ قتل کے دوران بار بار پیش کیا گیا۔اور جب جماعت احمدیہ کا وفد آخری روز سوالات کا جواب دے رہا تھا تو ایک ایسے شخص نے یہ دعوی کیا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، جس کو قتل کروانے کی کوشش کے الزام میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو سزائے موت دی گئی۔جب کارروائی شروع ہوئی تو کچھ پرانے حوالوں پر بات کرنے کے بعد مولوی ظفر احمد انصاری