سلسلہ احمدیہ — Page 492
492 تلوار کے ساتھ اس پر حضور نے ایک بار پھر ان کے موقف کی بوالجھی واضح کرنے کے لئے فرمایا " ” جبر کے ساتھ وہاں یہ لکھا ہوا ہے۔“ ی بختیار صاحب نے اب جان چھڑانے کے لئے جماعت کے موقف کا ذکر شروع کیا اور کہا " نہیں آپ کا concept یہ ہے کہ جبر کے ساتھ نہیں ہوگا پیار سے ہوگا۔“ یقیناً جماعت احمدیہ کا موقف یہی ہے۔اور جماعت اس موقف کو سختی سے رد کرتی ہے کہ دین کی اشاعت میں جنگ یا جبر کا کوئی دخل ہونا چاہئے۔یہ قرآن کریم کی تعلیم اور رسول کریم ﷺ کے عظیم اسوہ کے خلاف ہے۔جماعت کے اکثر مخالفین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا تلوار کا بڑا گہرا تعلق ہے۔اس اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی بھی موجود تھی۔ان کے بانی اور قائد کی زبان میں ان کے خیالات درج کرتے ہیں۔وہ اپنی کتاب الجہاد فی الاسلام میں تحریر کرتے ہیں لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی۔د, 66 انا لله وانا اليه راجعون۔کسی دھڑلے سے مودود وی صاحب فتویٰ دے رہے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا وعظ اور آپ کی تلقین نا کام ہو گئے۔جماعت احمدیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ خیال ہی فاسد ہے کہ رسول کریم ﷺ کا وعظ اور آپ کی تلقین نا کام ہو گئے۔دنیا کے کسی اسلحہ کسی قوت میں وہ تا ثیروہ برکت وہ اثر نہیں جو کہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات گرامی میں ہے۔اگر دنیا فتح ہوسکتی ہے تو آپ کے وعظ و تلقین کے اثر اور ان کی برکات سے ہی ہو سکتی ہے۔لیکن بہر حال مودودی صاحب کو کہ وہ پرکھنے حق ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں لیکن ان کی صحت کو پر کھنے کے لئے ہم قرآن کریم ﷺ کو معیار بناتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكَّرُ إِن نَّفَعَتِ الذِكرى“ (الاعلى: ١٠) ترجمہ: پس نصیحت کر نصیحت بہر حال فائدہ دیتی ہے۔لیکن مودودی صاحب مصر ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کی نصیحت ناکام ہوگئی۔پھر اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔