سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 484 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 484

484 موقع پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ جہاد کے مسئلہ کو چھوڑ کر وہ کون ساخزا نہ تھا جو ۱۳۰۰ سال سے مسلمانوں کو نہیں ملا تھا اور مرزا صاحب نے سامنے لا کر رکھ دیا؟ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف جہاد کے مسئلہ پر ہی مسلمانوں میں رائج غلط خیالات کی اصلاح نہیں فرمائی تھی بلکہ اور بہت سے پہلو تھے جن پر آپ کی مبارک آمد کے ساتھ غلط خیالات کی دھند چھٹنے لگی۔بہر حال حضور نے قرآنی آیات پڑھ کر فرمایا کہ قرآن کریم جہاں ایک کھلی کتاب ہے وہاں یہ کتاب مکنون بھی ہے۔پھر حضور نے مختلف پرانے بزرگوں کی مثالیں پڑھ کر سنائیں کہ جن پر ان کے دور کے لوگوں نے اس وجہ سے کفر کے فتوے لگائے کہ آپ وہ باتیں کرتے ہیں جو آپ سے پہلے بزرگوں نے نہیں کیں۔حضور نے فرمایا کہ اس دور کے تمام مسائل کا حل بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے۔اور فرمایا کہ میں اپنی ذات کے متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتا لیکن مجبوری ہے اور پھر بیان فرمایا کہ ۱۹۷۳ء کے دورہ یورپ کے دوران میں نے ایک پریس کانفرنس میں ذکر کیا تھا کہ کمیونزم جوحل آج پیش کر رہا ہے اس سے کہیں زیادہ بہتر علاج قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔مزید فرمایا کہ کون سے مخفی خزانے تھے جو اس Age میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔چنانچہ ان کے مطابق میں یہ کہوں گا کہ میرا یہ دعویٰ نہیں کہ پہلی ساری کتب پر مجھے عبور ہے۔اگر کسی صاحب کو عبور ہو کہ وہ آج کے مسائل حل کرنے کے لیے پہلی کتب میں سے مواد نکال دیں تو میں سمجھوں گا کہ وہ ٹھیک ہیں۔جب اس موضوع پر بات چلی تو اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ کوئی اور مثال دی جائے جو حضرت بانی نے نکتہ بیان کیا ہو اور پہلے علماء نے نہ بیان کیا ہو۔اس پر حضور نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی مثال دی۔اور اس کی کچھ تفصیلات بیان فرمائیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے وہ نکات بیان فرمائے تھے کو پہلے کسی عالم نے بیان نہیں کئے تھے۔اور اس ضمن میں حضور نے بیان فرمایا کہ کس طرح حضور نے ڈنمارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کو دہرایا تھا کہ عیسائی اپنی مقدس کتب میں وہ خوبیاں نکال کر دکھائیں جو سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔پھر اٹارنی جنرل صاحب اس موضوع پر سوال کرتے رہے کہ قرآن کریم سے نیا استدلال کوئی غیر نبی بھی کر سکتا ہے۔یقیناً تاریخ اسلام میں بہت سے ایسے علماء ربانی گزرے ہیں جنہوں نے قرآنِ کریم سے استدلال کر کے لوگوں کی ہدایت کا سامان کیا ہے انہیں الہامات بھی ہوتے تھے لیکن یہ خدا کی مرضی ہے کہ کب اس کی حکمتِ