سلسلہ احمدیہ — Page 483
483 غیر احمدی علماء کوفرمایا تھا کہ وہ اس مناظرے کے لیے موقع کی مناسبت سے پولیس کا انتظام کر لیں۔اور یہ بات بھی غلط ہے کہ اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پولیس کی حفاظت میں کوئی تقریر کی تھی۔عملاً اس موقع پر کوئی تقریر ہوئی ہی نہیں تھی۔اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف بارہ خدام کے ساتھ جامع مسجد تشریف لے گئے تھے اور وہاں پر پانچ ہزار مخالفین کا مجمع تھا جنہوں نے پتھر اُٹھا رکھے تھے اور خون خوار آنکھوں سے اس مبارک گروہ کو دیکھ رہے تھے۔ایسے موقع پر صرف اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت ہی تھی جو اپنے مامور کی حفاظت کر رہی تھی ورنہ ایسے خطرناک مواقع پر پولیس کے چند سپاہی بھی کیا کر سکتے ہیں۔مخالف علماء نے مناظرہ کرنے کی بجائے وہاں سے چلے جانا مناسب سمجھا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ علماء خدا کی قسم کھالیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں تو ان علماء نے یہ جرات بھی نہیں کی تھی۔مغرب کے وقفہ کے بعد جب کہ ابھی جماعت کا وفد ہال میں نہیں آیا تھا تو سپیکر اسمبلی اس بات پر اظہار ناراضگی کرتے رہے کہ ممبر ان اکثر غیر حاضر رہتے ہیں۔سپیکر صاحب نے کہا کہ ممبران نو بجے کے بعد ایک ایک کر کے ہاتھ میں بستہ لے کر کھسکنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد جو کارروائی شروع ہوئی تو ایک سوال اس حوالہ سے بھی آیا کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک حدیث کا کیا مقام ہے اور کیا جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو حدیث سے زیادہ وقعت دیتی ہے۔جب حضور نے اس کا واضح جواب دینا شروع کیا تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرحلہ پر کہا کہ مجھے تو ممبرانِ اسمبلی کی طرف سے جو سوال آئے اس کو پیش کرنا پڑتا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرحلہ پر یہ اعتراض بھی اُٹھانے کی کوشش کی کہ جماعت احمد یہ کے عقائد کے مطابق نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کا مقام احادیث نبویہ سے زیادہ ہے۔اس کے رد کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد ہی کافی تھا آپ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔‘ (۹۷) اس اجلاس میں ان سوالات اور جوابات کا تکرار ہوتا رہا جن پر پہلے بھی بات ہو چکی تھی۔ایک