سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 482 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 482

482 ۲۰۰۸ ء میں شائع کی ہے۔ایک اور نیا نکتہ جو اٹارنی جنرل صاحب نے منکشف فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دہلی کا سفر کیا تو انہوں نے پولیس کی حفاظت کا مطالبہ کیوں کیا ؟ پھر خود ہی بیچی بختیار صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور کہا کہ Everybody has right وہ میں نہیں کہہ رہا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہماری کتابوں میں ہے کہ پولیس سے Protection نہیں مانگی تھی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ پولیس نے خود ہی کیا ہوگا۔پولیس کی Protection میں وہ تقریر کیا کرتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب کا ذہنی انتشار نہ جانے اور کیا کرشمے دکھاتا کہ سپیکر صاحب نے کہا کہ مغرب کی نماز کے لیے وقفہ ہوتا ہے۔یہاں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کے اس سوال کی حقیقت کیا ہے۔اول تو اگر یہ بات سچ بھی ہوتی تو یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ایک شخص ایسی حالت میں جب کہ امن عامہ کو خطرہ ہو، پولیس کو حفاظت کے لیے کہے تو اس میں قابل اعتراض بات کون سی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۱ ء میں دہلی کا سفر کیا تو اس وقت مخالفت کا یہ عالم تھا کہ جس گھر میں حضور رہائش فرما تھے اس پر قتل کی نیت سے مسلسل بلوائیوں نے حملے کیے تھے۔اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مباحثہ کے لیے جامع مسجد دہلی تشریف لے جا رہے تھے تو راستے میں حملہ کرنے کے لیے کچھ لوگ بندوقوں سمیت تیار تھے مگر خود ہی بگھی والوں نے راستہ تبدیل کر لیا۔یہ اعتراض اٹھانے والے یہ بھول گئے کہ جب آنحضرت یہ طائف کے سفر سے واپس تشریف لائے تو آپ مکہ میں داخل ہونے سے قبل حرا کے مقام پر رک گئے اور آپ نے مکہ کے ایک مشرک رئیس مطعم بن عدی کو پیغام بھجوایا کہ کیا میں تمہارے پڑوس میں داخل ہوسکتا ہوں۔اس پر مطعم بن عدی نے خود بھی ہتھیار پہنے اور اپنے بیٹوں صلى الله کو بھی مسلح کر کے بیت الحرام کے قریب کھڑے ہو گئے اور یہ اعلان کیا کہ میں نے محمد ( ﷺ ) کو پناہ دی ہے۔اور آنحضرت ﷺ خانہ کعبہ میں تشریف لائے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔(۹۶) اور اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال کرتے ہوئے کئی تاریخی حقائق بھی غلط بیان فرمائے تھے۔حقیقت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پولیس کو اپنی حفاظت کے لیے کہا ہی نہیں تھا بلکہ