سلسلہ احمدیہ — Page 481
481 اراکین جو چاہیں خود تلاش کریں۔ہمیں آپ صرف یہ پوچھیں کہ یہ حوالہ ہے اس کا مطلب کیا ہے۔ہم پر یہ بوجھ نہ ڈالیں کہ آپ کے لئے ہم حوالے تلاش کریں۔“ ایک روز پہلے تو اٹارنی جنرل صاحب کے رویہ کی تلخی کا عالم کچھ اور تھا لیکن اس روز وہ کچھ معذرت خواہانہ رویہ ظاہر کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ نہیں اگر آپ یہ کہیں گے کہ آپ کے علم میں نہیں تو وہ کافی ہے۔اور کہا کہ بعض دفعہ اخبار کی تاریخ کی غلطی ہو جاتی ہے مثلاً ۲۱ کی جگہ ۳۱ ہو جاتا ہے یا سال کا فرق ہو جاتا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا: نہیں میں نے تو صرف یہ عرض کی ہے کہ میں نے اپنی طرف سے نہایت دیانتداری کے ساتھ اس بات کو تسلیم کر لیا تھا کہ ہم اس کو تلاش کریں گے لیکن جس کا بدلہ مجھے یہ دیا گیا کہ بڑا نا مناسب اعتراض مجھ پر کر دیا گیا تو اس واسطے میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ جو بوجھ آپ کا ہے وہ آپ اُٹھا ئیں اور جو ہمارا ہے وہ ہم اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ میں آپ کی دیانت پر شک نہیں کرتا ہوں اور پھر کہا کہ کل جو اعتراض اُٹھایا گیا تھا وہ Clarify ہو گیا ہے۔اس کے بعد جو کارروائی شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل صاحب زیادہ تر انہی اعتراضات کو دہرا رہے تھے جو اس کمیٹی کے سامنے پہلے بھی پیش ہو چکے تھے۔ایک بوسیدہ یہ اعتراض بھی پیش کیا کہ آپ کامشن اسرائیل میں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فلسطین میں احمدی اس وقت سے موجود ہیں جب کہ ابھی اسرائیل وجود میں ہی نہیں آیا تھا اور احمدیوں کی تعداد تو وہاں پر بہت کم ہے، باقی فرقوں کے مسلمان احمدیوں کی نسبت بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔وہاں احمدیوں کی بھی مسجد ہے اور غیر احمدی مسلمانوں کی بھی بہت سی مساجد ہیں۔اس بات پر کسی طرح کوئی اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا۔احمدی تو اپنی غریبانہ آمد میں سے چندہ دے کر اپنا خرچہ چلاتے ہیں اور اس سے تبلیغ کا کام بھی کیا جاتا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی فوج میں مسلمان فوجی بھی شامل ہیں اور اسرائیلی فوج بعض مسلمان اماموں کو کچھ رقم بھی دیتی ہے کہ تا کہ وہ مرنے والے مسلمان افراد کی آخری رسومات ادا کریں۔اس بات کا ذکر 2008 International Religious Freedom Report میں بھی موجود ہے جو کہ Bureau of Democracy, Human Rights, and Labor نے