سلسلہ احمدیہ — Page 480
480 صاحب کے دست راست کا کام کر رہے تھے۔یہ تجویز پیش کیوں کی گئی اس کی وجہ ظاہر ہے۔جو سوالات کئے جارہے تھے ان میں پیش کردہ حوالے اگر کبھی قسمت سے ٹھیک ہو جاتے تھے تو جب پوری عبارت پیش کی جاتی تھی تو یہ صاف نظر آجاتا تھا کہ اس عبارت پر تو یہ اعتراض ہو ہی نہیں سکتا تھا۔نامکمل حوالہ پیش کر کے جو تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی تھی وہ ناکام ہو جاتی تھی۔اس لئے اب بار بار کی خفت سے بچنے کے لئے مولوی صاحب نے یہ حل تجویز فرمایا تھا کہ جماعت ہر حوالے کے جواب میں صرف یہ کہے کہ یہ حوالہ صحیح ہے یا غلط۔اور اس کا سیاق وسباق بھی سامنے نہ رکھے۔اس تجویز کے جواب میں سپیکر صاحب نے کہا ”اگر original produce کریں تو بڑا easy ہوگا۔جب آپ حوالہ دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے۔verify کریں گے۔“ اب یہ بڑی معقول تجویز تھی کہ اگر اصل حوالہ اسی وقت پیش کر دیا جائے تو پھر اتنی دیر اور تلاش کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔لیکن مولوی ظفر انصاری صاحب اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے اس کے جواب میں اپنی سابقہ بات ہی دہرائی اور صرف یہ اضافہ کیا کہ اگر وفد چاہے تو explaination کے لئے سپلیمنٹری وقت لے سکتا ہے۔ممبران اسمبلی اس کارروائی کے افشا ہونے سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ اس مرحلہ پر ایک ممبر نے کہا کہ وہ دروازہ کھلا رہتا ہے اور وہاں پر کوئی Constantly سنتا رہتا ہے۔پیکر صاحب نے ہدایت دی کہ یہ معلوم کر کے بتائیں کہ یہ شخص کون ہے، یہ طریقہ کا ر غلط ہے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث جماعت احمدیہ کے وفد کے اراکین کے ہمراہ تشریف لائے تو ابتدا میں ہی حضور نے فرمایا کہ کل مجھ پر جو الزام لگایا گیا تھا (یعنی بعض ممبران نے یہ الزام لگایا تھا کہ جو حوالہ ان کی تائید میں ہو وہ یہ نکال کر لے آتے ہیں اور جو ان کے خلاف جائے اس کو ٹالتے رہتے ہیں )۔ابھی حضور نے اپنا جملہ مکمل نہیں کیا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جملہ کاٹ کر کہا کہ ” نہیں مرزا صاحب میں نے کوئی الزام نہیں لگایا تھا۔“ لیکن حضور نے فرمایا۔د نہیں میری بات سن لیں۔اس لیے سوالوں کے متعلق جو حوالے چاہئیں اسے معزز