سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 479 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 479

479 مرز امنصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ نے یہ خط ۱۵ اگست ۱۹۷۴ء کو تحریرفرمایا تھا، اس سے قبل کارروائی کے آغاز پر ۶ / اگست ۱۹۷۴ء کو ایڈیشنل ناظر اعلی مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی طرف سے بھی ایک خط قومی اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا گیا تھا کہ اس کا رروائی کی ریکارڈنگ جماعت احمدیہ کو مہیا کی جائے اس خط میں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اگر یہ ریکارڈنگ مہیا کر دی جائے تو صد را مجمن احمد یہ بھی اس کے مندرجات کو ظا ہر نہیں کرے گی۔اب تک جس نہج پر کاروائی چلی تھی اس کو پیش نظر رکھا جائے تو ممبران اسمبلی کے اس انکار کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔پھر یہ تجویز سامنے رکھی گئی کہ جماعت احمدیہ کے وفد کو سوالات سے پہلے مطلع کر دیا جائے تا کہ وہ اس کا تحریری جواب جمع کرا سکیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے اس کی مخالفت کی۔اور پوری پیشل کمیٹی نے اٹارنی جنرل صاحب کی رائے کی متفقہ تائید کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے دریافت کیا کہ جب جماعت کی طرف سے یہ درخواست کی گئی کہ ہمیں سوالات سے پہلے سے مطلع کر دیا جائے تو اس کو منظور نہیں کیا گیا تھا تو اس کی وجہ کیا تھی۔اس کے جواب میں سابق سپیکر صاحب نے فرمایا کہ میرے سامنے اس قسم کی کوئی بات نہیں آئی تھی۔ریکارڈ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سٹیرنگ کمیٹی کو اور پھر سپیشل کمیٹی کو یہ درخواست کی گئی تھی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔اور سپیکر صاحب نے ایوان میں بھی اس درخواست کا ذکر کیا تھا۔اس کے بعد مولوی ظفر انصاری صاحب نے بھی ایک تجویز پیش فرمائی۔اور وہ تجویز یہ تھی جناب والا میں ایک چیز یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بعض ممبران بار بار یہ کہتے ہیں کہ بہت دیر ہو رہی ہے۔دیرہ یقیناً ہو رہی ہے لیکن جب ہم نے ایک دفعہ یہ کام شروع کر دیا تو پھر اسے کسی ایسے مرحلہ پر چھوڑنا بہت غلط ہو گا اور مقصد کے لئے مضر ہوگا۔میرے ذہن میں ایک تجویز یہ ہے کہ ہم کسی موضوع پر چار پانچ Questions ایک دفعہ پڑھ دیں۔ان سے اگر یہ کہہ دیں کہ وہ اسے Admit کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔کوئی Explaination نہ لیں۔اگر وہ Admit نہیں کرتے ہم کوشش کریں گے کہ ہم 66 Original Produce کریں۔یہ بات مد نظر رہے کہ مولوی ظفر انصاری صاحب سوالات تیار کرنے کے لئے اٹارنی جنرل