سلسلہ احمدیہ — Page 478
478 میرے علم میں نہیں ہے۔“ بہر حال یہ اس کا اثر تھا یا کوئی اور وجہ تھی پیکر صاحب نے اس اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل صاحب کو اصرار سے یہ کہا کہ وہ اس کا رروائی کو اب مختصر کرنے کی کوشش کریں۔اس پس منظر میں سپیکر صاحب اٹارنی جنرل صاحب کی ہمدردی میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی ٹیم کی ذہنی کیفیت کچھ بھی تھی لیکن جب ملک کی قومی اسمبلی میں ایک غلط حوالہ پیش کر کے جماعت احمدیہ پر غلط اعتراض کیا جار ہا ہو تو جماعت احمدیہ کے وفد کا یہ فرض تھا کہ وہ ان کا مکمل جواب دے۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک احمدی کی کتاب کا حوالہ دے کر اعتراض اُٹھایا تھا کہ اس میں جو درود دیا گیا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی شامل ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کے تمام ایڈیشن دیکھ لئے ہیں۔درود کی جو عبارت یہاں پڑھ کر سنائی گئی تھی وہ اس کے کسی ایڈیشن میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ابھی اٹارنی جنرل صاحب اس تازہ صدمہ سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ انہیں ایک اور صدمہ سے دو چار ہونا پڑا۔بیٹی بختیار صاحب نے ایک کتاب کے انگریزی ترجمہ کا حوالہ پیش کیا تھا۔حضور نے اس کا اصل اردو کا حوالہ پیش کیا تو یہ اعتراض خود بخود ہی باطل ہو گیا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ترجمہ پر اصرار کرنا چاہا تو سپیکر صاحب نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی When the original is available translation is of no use جب اصل کتاب موجود ہے تو پھر ترجمہ کی کوئی اہمیت نہیں۔۲۱ اگست کی کارروائی جب ۲۱ / اگست کی کارروائی شروع ہوئی تو سپیکر صاحب نے ممبرانِ اسمبلی کو مطلع کیا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس سپیشل کمیٹی کی بحث کی روئیداد کی کاپی مہیا کی جائے۔سپیکر نے کہا کہ میں نے اس کا جواب انکار میں دیا ہے۔ممبرانِ اسمبلی نے اس بات کی متفقہ تائید کی کہ اس کارروائی کی نقول جماعت احمدیہ کو بالکل نہیں دینی چاہئے۔حضرت صاحبزادہ