سلسلہ احمدیہ — Page 430
430 سب دروازے اتباع محمد ﷺ کے بغیر بند ہیں۔اب میں نے چونکہ اعلان کر دیا ہے اس لئے براہ راست مجھ سے سوال کریں۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے خاتم النبین ﷺ کی مختلف تفاسیر کے بارے میں سوال کیا۔اس پر حضور نے جواب دیا: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خاتم النبین ہیں۔اس معنی میں بھی کہ آپ سے قبل جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان کی ساری روحانی تجلیات مجموعی طور پر محمد ﷺ کی روحانی تجلیات سے حصہ لینے والی اور ان سے کم تھیں۔پہلے بھی اور آئیندہ بھی۔کوئی شخص روحانی بزرگی اور روحانی عزت کے چھوٹے سے چھوٹے مقام کو بھی حاصل نہیں کر سکتا سوائے نبی اکرم ﷺ کے فیض سے حصہ لینے کے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے۔“ اس مرحلہ پر ایک بار پھر بیٹی بختیار صاحب نے یہ اعتراض اٹھانے کی کوشش کی کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا: ” میں نے ابھی عرض کی کہ امت محمدیہ شروع سے لے کر تیرہ سو سال تک نبی (اکرم ) ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جس کو مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے بار بار نبی اللہ کہا اور وہ خاتم النبین پر بھی ایمان رکھتے تھے۔اس واسطے میرے نزدیک کوئی الجھن نہیں ہے۔ساری امت۔۔۔۔وہ سمجھتی رہی ایک مسیح آئے گا جو نبی اللہ ہوگا۔اور میں نے ابھی بتایا ہے کہ امت کے سلف صالحین کی سینکڑوں عبارتیں یہاں بتائی جاسکتی ہیں جو آنے والے کا مقام ظاہر کر رہی ہیں۔۔۔۔تیرہ سوسال تک امت محمدیہ نبی کا انتظار کرتی رہی اور تمام سلف صالحین اس بات پر متفق تھے۔“ اس کے بعد انہوں نے کچھ حوالے تصدیق کے لئے نوٹ کرائے۔اور پھر اپنی طرف سے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ احمدیوں کے علاوہ باقی فرقے یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور احمدی کہتے ہیں کہ امتی نبی آسکتا ہے۔اس پر حضور نے پھر اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ تیرہ سو سال تک امت محمد یہ ایک مسیح نبی اللہ کا انتظار کرتی رہی ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی نبی بن چکے ہیں۔حالانکہ یہاں نئے اور