سلسلہ احمدیہ — Page 427
427 پھر حضور نے فرمایا کہ آپ نے ایک کتاب کلمۃ الفصل سے حوالہ دیا ہے اور اسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمۃ الفصل حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی کتاب ہے ہی نہیں بلکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ہے۔پھر حضور نے وہ پورا حوالہ پڑھ کر سنایا جس سے کیا گیا اعتراض خود بخودہی رفع ہو جاتا تھا۔بہر حال وقفہ تک انہی امور پر بحث ہوتی رہی جن پر پہلے بھی کئی مرتبہ بات ہو چکی تھی۔اس روز کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث بھی اُٹھانے کی کوشش کی کہ تقسیم ہند کے وقت احمدیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک فریق کے طور پر پیش کیا تھا۔اس کا خاطر خواہ جواب۔حصہ دوئم میں ۱۹۴۷ء کے حالات بیان کرتے ہوئے گزر چکا ہے۔اس لئے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔حضور نے افضل کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل صاحب یا تو غلط حوالہ پیش کرتے یانا مکمل عبارت پڑھ کر یا تبدیل شدہ عبارت پڑھ کر ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن جب پورا اقتباس پڑھا جاتا تو یہ اثر ویسے ہی زائل ہو جاتا۔اور اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔اس کے بعد یحی بختیار صاحب نے یہ بحث اُٹھائی کہ آپ کے مطابق آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ وضاحت فرمائی کہ نبی نہیں صرف امتی نبی آسکتا ہے۔اٹارنی جنرل صاحب نے پھر دو سوال اُٹھائے۔ایک تو یہ کہ آپ کے نزدیک کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ بھی کوئی نبی آسکتا ہے اور دوسرا یہ کہ کیا پھر آپ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری نبی ہوں گے؟ پہلے سوال کے متعلق تو حضور کا اصولی جواب یہ تھا کہ اب وہ امتی نبی آسکتا ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے خوشخبری دی ہو۔اور جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو یہ سوال ہی بنیادی طور پر غلط ہے اور اس کی بنیاد یہ غلط تصور ہے کہ آخری ہونا اپنی ذات میں کوئی فضیلت کی بات ہے۔حالانکہ زمانی طور پر آخری ہونا کسی طور پر کوئی فضیلت کا پہلو نہیں رکھتا۔البتہ یہ بات ایک عظیم الشان فضیلت کے بعد ہے کہ اب جو بھی ماموریا مصلح یا نبی آئے گا وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع اور محبت کے نتیجہ میں یہ مقام پائے گا اور آپ کے تمام احکامات اور تعلیمات کی پیروی کرے گا۔اور جماعت احمدیہ کا یہی عقیدہ ہے۔اصل میں وہ یہ اعتراض اٹھانا چاہتے تھے کہ احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔