سلسلہ احمدیہ — Page 426
426 گے۔اس کے بعد انہوں نے اس کے معنی کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔اور ان کے بے ربط جملوں کا مطلب یہ نکلتا تھا کہ وہ لغت کے مطالعہ کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ اتمام حجت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سمجھانے والا مطمئن ہو گیا ہے کہ میں نے سمجھا دیا ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا This is rediculous۔اٹارنی جنرل صاحب تو اٹارنی جنرل اسمبلی میں موجود مولوی حضرات کی علمی حالت بھی ایسی تھی کہ جب وقفہ ہوا اور جماعت کا وفد ہال سے چلا گیا تو مولوی غلام رسول ہزاروی صاحب سپیکر صاحب سے فخریہ انداز میں کہنے لگے: ” جناب چیئر مین میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب آج خوب پھنسے ہیں۔اس لیے اتمام حجت کے معنی جو وہ کر رہے ہیں جن کو دنیا تسلیم نہیں کرتی۔۔۔۔“ اس جملے سے بیچارے مولوی صاحب کی بچگانہ خوشی ظاہر ہوتی ہے۔وہ اس خیال میں تھے کہ آج اللہ اللہ کر کے تیسرے دن ہمیں بھی کوئی خوشی ملی ہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب ان کی خوش فہمی میں شریک نہیں تھے کیونکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔” مولانا صاحب پھر یہ بحث کی بات ہے۔ضابطہ کی بات ہے۔یہ جو آپ تقریر کر رہے ہیں یہ وقت پھر بعد میں آپ کی تقریر سے کاٹا جائے گا۔اس لیے میں کہتا ہوں کہ یہ بعد میں کریں گے۔“ مولوی ہزاروی صاحب نے پھر کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن مداخلت کے باعث کہہ نہ سکے۔بہر حال ان کی جو بھی خوش فہمی تھی جلد رفع ہو گئی کیونکہ وقفہ کے بعد کا رروائی شروع ہوئی تو ایسا تصرف ہوا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جن الفاظ کے لغوی معانی کے متعلق بات ہوئی تھی ان پر مختصر تحقیق کے بیان سے بات شروع فرمائی۔حضور نے حجت اور اتمام حجت کے الفاظ کے متعلق قرآن کریم سے مثالیں دیں، مفردات امام راغب اور لسان العرب جیسی عظیم لغات سے ان الفاظ کے مطالب بیان فرمائے ، امام زہری کے اقوال پڑھ کر سنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر سے اس کے بارے میں اقتباس پڑھا۔اس خفت کے بعد اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی مدد کرنے والوں نے کسی لغت کا حوالہ دینے کی کوشش نہیں کی۔