سلسلہ احمدیہ — Page 411
411 معاملے میں خود کو پر اعتماد نہیں محسوس کر رہے تھے۔اب اسمبلی میں ان ممبران کی پریشانی بڑھ چکی تھی جو جماعت سے بغض رکھتے تھے۔کارروائی ان کی امیدوں کے برعکس جارہی تھی۔ان کی نفسیاتی الجھن یتھی کہ وہ اعتراض تو کر بیٹھتے تھے لیکن جب جواب شروع ہوتا تو انہیں اپنی خفت سامنے نظر آرہی ہوتی تھی۔چنانچہ کا روائی کے اختتام کے قریب جب حضور اور جماعت کا وفد باہر جا چکا تھا مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے سپیکر سے درخواست کی ” جناب والا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو تحریری بیان دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اسکی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔یہ محضر نامے میں کافی طویل جواب دے چکے ہیں۔اس لئے جہاں تک ہو سکے ہم ان کو Discourage کریں تا کہ یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہو جائے۔اب اس کی ضرورت نہیں۔“ ان الفاظ پر زیادہ تبصرہ کی ضرورت نہیں۔جماعت احمدیہ نے ایک مختصر سا محضر نامہ پیش کیا تھا، اسے کسی طرح بھی طویل نہیں کہا جا سکتا۔۵ اگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے اور ۷ /اگست کو مولوی صاحب کو خیال آنے لگ جاتے ہیں کہ یہ تو بہت طویل ہو گئی ہے۔حالانکہ اس کے بعد بھی کئی روز کارروائی جاری رہی۔اصل بات تو یہ تھی کہ وہ جوابات سے خفت محسوس کر رہے تھے اور اپنی جان چھڑانا چاہتے تھے۔لیکن اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گواہ زیادہ سے زیادہ بولے کیونکہ جتنا وہ زیادہ بولے گا اتنا ہی اس کے بیان میں Contradiction آئے گی۔ان کی خوش فہمی کس حد تک بجا تھی۔میرا نہیں خیال کہ اس کا رروائی کو پڑھنے والے کو اس بارے میں خود فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئے گی۔۸ /اگست کی کارروائی اگست کو کارروائی شروع ہونے سے قبل سپیکر صاحب نے اس عندیہ کا اظہار کیا کہ یہ کارروائی ۱۳ اگست تک چلے گی اور ۱۴ / اگست کو قومی اسمبلی کی نئی عمارت کا سنگ بنیادرکھنے کا پروگرام ہے۔ہم پہلے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ پہلے پیکر صاحب نے کہا تھا کہ یہ سلسلہ دو تین دن جاری رہ سکتا ہے لیکن اب یہ کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی ۱۳ اگست تک جاری رہے گی۔اس کے بعد عملاً یہ کارروائی اس سے بھی