سلسلہ احمدیہ — Page 410
410 یہ کارروائی ان ممبران کی امیدوں کے بالکل بر عکس جا رہی ہے۔اس کا اندازہ اس سیشن کے آخری تبصرہ سے لگایا جاسکتا ہے۔یہ تبصرہ ممبر اسمبلی عبد الحمید جتوئی صاحب کا تھا انہوں نے کہا: ” دوسرے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ اٹارنی جنرل صاحب جب ان سے سوالات پوچھتے ہیں۔تو یہ پہلے سے ان کے پاس لکھا ہوا موجود ہوتا ہے۔میرا اندازہ ہے یہ سوالات Leak out ہوئے ہیں۔یہ کیسے ہوئے ہیں یہ آپ خود اندازہ لگائیں۔۔۔۔اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہاؤس کے ممبران میں سے یا کہیں سے ایسا ہوتا ہے۔کون کرتا ہے وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔حقیقت یہ تھی کہ جو اعتراضات ممبران کمیٹی کی طرف سے بالخصوص جماعت کے مخالفین کی طرف سے پیش کیے جارہے تھے ، وہ وہی تھے جو تقریباً ایک صدی سے جماعت احمدیہ پر کیے جا رہے تھے۔اور اس وقت سے ہی ان کا تسلی بخش جواب دیا جارہا تھا۔اور ان کا جواب ممبرانِ وفد نے پہلے سے ہی تیار کیا ہوا تھا۔نئی بات یہ تھی کہ جتنے غلط حوالے اب پیش کیے جارہے تھے ، شاید ہی پہلے مسلسل اتنے غلط حوالے پیش کیے گئے ہوں۔پھر جب اس روز کی کارروائی ختم ہو رہی تھی تو ایک رکن حکیم سردار محمد صاحب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس سب کمیٹی کے سامنے اصل سوال تو یہ تھا کہ جو نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا اس کی اسلام میں حیثیت کیا ہے؟ اور اس نکتے کو ابھی تک چھوا بھی نہیں گیا۔اب یہ بڑی اہم چیز کی نشاندہی کی جارہی تھی۔یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ دوروز کی طویل بحث کے بعد ابھی تک اصل موضوع پر بات شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔اور اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ ایسا نہیں اور نہ کسی اور ممبر نے یہ کہا کہ نہیں ہم تو مقرر کردہ موضوع کے متعلق بحث کرتے رہے ہیں۔سپیکر صاحب نے مختصراً یہ کہا کہ It will be taken up۔It will be taken up at the proper time یعنی یہ اس بات کا عتراف تھا کہ طویل کارروائی ہو چکی ہے لیکن ابھی تک اصل موضوع پر بات شروع بھی نہیں ہوئی تھی اور سپیکر صاحب فرما رہے تھے کہ جب صحیح وقت آئے گا تو اس موضوع پر بات شروع ہوگی۔اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ قومی اسمبلی پر مشتمل پیشل کمیٹی اصل موضوع پر بحث کے