سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 405 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 405

405 مقدسہ سمجھتا ہوں۔کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔(۶۲) ان حوالوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی کی توہین کی ہے یا آپ کے احترام کا خیال نہیں رکھا۔اور حضرت حسین کے بلند مقام کے متعلق حضرت مسیح موعود کا فتویٰ ہے:۔۔۔۔ہم اعتقاد رکھتے ہیں۔کہ یزید ایک نا پاک طبع دنیا کا کیڑا اور ظالم تھا۔اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے۔وہ معنے اس میں موجود نہ تھے۔۔۔۔۔دنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا۔اور بلا شبہ ان برگزیدوں سے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے۔اور اپنی محبت سے مامور کر دیتا ہے۔اور بلا شبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے۔اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔۔اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتدا کرنے والے ہیں۔جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے۔اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوب صورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے۔کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی تھی۔کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔(۶۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر تو ہم نے دیکھ لی کہ یزید کو ہم مومن نہیں کہہ سکتے۔اور اس کے برعکس جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والے علماء کے خیالات کی ایک مثال پیش ہے۔دیوبند کے مشہور مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب سے جب پوچھا گیا کہ یزید کوکافر کہنا اور لعن کرنا جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فتوی دیا کہ جب تک کسی کا کفر پر مرنا تحقیق نہ ہو جائے اس پر لعنت کرنا نہیں چاہئے ، جو علماء اس میں تر دور کھتے ہیں کہ اول میں وہ مومن تھا اس کے بعد اُن افعال کا وہ مستحل تھا یا نہ تھا اور ثابت ہوا یا نہ ہوا تحقیق نہیں ہوا (۶۴)۔البتہ بعض شیعہ کتب جو حضرت حسینؓ کی شان بیان کرتے