سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 393 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 393

393 66 سنائیں جس سے اُٹھائے گئے اعتراضات باطل ہو جاتے تھے۔ابھی بحث جاری تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب یا ان کو سوالات مہیا کرنے والے قابل احباب اپنی طرف سے ایک برہان قاطع یہ لائے کہ ” میں آپ کی کوٹیشن۔۔۔سناتا ہوں شریعت اسلام میں جو نبی کے معنی ہیں۔اس کے معنی ہے۔اگر مرزا غلام احمد اگر مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہے۔That is shariat as you say “ اب ذرا ملاحظہ ہوا ٹارنی جنرل صاحب اپنی طرف سے یہ حوالہ پڑھ رہے ہیں اور ان جملوں کی ٹوٹی پھوٹی ساخت ہی بتا رہی تھی کہ حوالہ مسیح نہیں پڑھا جارہا اور معین الفاظ نہیں پڑھے جا رہے عقل کی بات ہے کہ جماعت کی کسی تحریرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام صرف مرزا غلام احمد کر کے نہیں لکھا جا سکتا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا ” یہ کہاں کا حوالہ ہے؟“۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے لب کشائی فرمائی ” شریعت نبوت صفحہ ۱۷۲‘۔ایک منٹ میں یہ ان کا دوسرا کارنامہ تھا۔اس نام کی جماعت کی کوئی تصنیف نہیں تھی۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا یہ سچ مچ بناوٹی ہے۔پیشتر اس کے کہ بیٹی بختیار صاحب حوالہ جات پیش کرنے کے میدان میں کچھ اور جو ہر دکھاتے کہ سپیکر صاحب نے انہیں اس مخمصے سے نجات دلائی اور کہا کہ کل کا رروائی جاری رہے گی اب وفد جا سکتا ہے۔کل دس بجے کارروائی شروع ہوگی۔یعنی سپیکر صاحب نے تو یہ متنبہ کیا تھا کہ آپ کو حوالے وقت پر نہیں ملتے اور آدھا آدھا گھنٹہ حوالہ ڈھونڈ نے میں لگ جاتا ہے اور اس کے بعد سوال اُٹھانے والوں نے یہ اصلاح کی کہ ان کتابوں کے حوالے پیش کرنے شروع کر دیئے جو بھی لکھی ہی نہیں گئیں تھیں۔اس افراتفری کے عالم میں 4 اگست کی کارروائی ختم ہوئی۔ے راگست کی کارروائی جب ۷ /اگست کی کارروائی شروع ہوئی تو بات ان حوالہ جات سے شروع ہوئی تھی جو گزشتہ روز پڑھے گئے تھے۔سوالات کرتے ہوئے جو حوالہ جات پیش کیے جارہے تھے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ جن کو پیش کرنے کی کوشش کی جارہی تھی وہ عجیب افراتفری کا شکار تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا کہ جو حوالے میں نے کل پڑھے تھے آپ نے ان کی تصدیق کر لی ہے؟ اس پر