سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 387 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 387

387 گی۔اور پھر اصل الفاظ پیش کرنے کی بجائے الفاظ بدل کر پیش کیے جائیں گے اور کسی اور ایڈیشن میں مطلوبہ صفحہ پڑھ کر وہ عبارت ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ جد و جہد لا حاصل ہی رہے گی۔یا پھر محض ایک مخالف کی کتاب سے جماعت کی کتاب کا فرضی حوالہ نقل کر کے پیش کر دیا جائے تو پھر خفت تو اُٹھانی پڑے گی۔ایسے بزرجمہروں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔مفتی محمود صاحب کے تبصرے سے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ شاید انہیں کتابوں کو دیکھنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔لیکن شاید سپیکر صاحب مفتی محمود صاحب کا دقیق نکتہ سمجھ نہیں پائے تھے۔انہوں نے کہا۔” حوالہ جات شروع ہو چکے ہیں۔جنرل ایگزامینیشن ختم ہو چکا ہے۔تقریباً زیادہ بات حوالہ جات کی شروع ہو چکی ہے۔دو تین حوالہ جات نہیں ملے۔۔۔۔۔۔۔(بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے )۔ادھر چار پانچ کرسیاں رکھ دیں اور جتنے انہوں نے حوالہ جات دیئے ہیں Flag کردیں۔یہ دو تین ایڈیشن ہیں آپ اپنے حوالہ جات کو ٹھیک کر کے رکھ دیں۔وہ اگر یہ کہیں تو ان کو کہیں کہ آپ کی یہ کتاب ہے۔“ اس مرحلہ پر مولوی غلام غوث ہزاروی کو خیال آیا کہ وہ بھی کوئی نکتہ بیان فرما ئیں۔چنانچہ وہ کہنے لگے : جناب والا میں ایک چیز کے متعلق عرض کروں کہ ہم حوالہ جات اس وقت تیار رکھیں جب ہمیں اٹارنی جنرل کی طرف سے علم ہو کہ وہ کون سے سوالات کریں گے۔۔۔۔یہ نکتہ بھی خوب تھا۔مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب جیسے ممبران سوالات حوالہ جات سمیت پیش کر رہے تھے اور چند حوالے ابھی ابھی پیش کئے گئے تھے اور وہ بھی غلط نکلے۔جس نے سوال کیا تھا وہ حوالہ نکال کر اپنے پاس رکھ سکتا تھا تا کہ عند الطلب پیش کر سکے یا پھر کتاب سے نکال کر اٹارنی جنرل کو دے سکتا تھا تا کہ جماعت کے وفد کو دکھایا جاسکے۔اس کے بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے خفت مٹانے کی کوشش کی اور سپیکر صاحب کو کہا کہ انہوں نے یعنی حضور نے حقیقۃ الوحی والے حوالے کا انکار کیا ہے جب کہ یہ حوالہ یہاں پر موجود ہے اور سپیکر صاحب کو کہا کہ آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔آفرین ہے نورانی صاحب پر۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ کارروائی کے دوران ذہنی طور پر غیر حاضر تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ اصل الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں یعنی معین عبارت نہیں پڑھی گئی اور اس کا علاج بہت آسان تھا اور وہ یہ کہ اصل عبارت