سلسلہ احمدیہ — Page 386
386 فاروق صاحب بھی بیچی بختیار صاحب اور ان کی ٹیم کی تیاری کے اس عالم سے تنگ آچکے تھے۔جب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث جماعت کے وفد کے ہمراہ ہال سے تشریف لے گئے تو سپیکر صاحب نے کہا The honourable members may keep sitting پھر انہوں نے ان کتب کو قرینے سے لگانے کے متعلق ہدایات دیں جن کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے۔اور لائبریرین کو اس کے قریب کرسیاں رکھنے کی ہدایت دی۔اور حوالہ جات میں نشانیاں رکھنے کی ہدایت دی۔اور کہا کہ جن لوگوں نے مخصوص حوالہ جات دیئے ہیں باقاعدہ کتابوں میں نشان لگا کر رکھیں اور اگر گواہ کسی چیز سے انکار کریں تو کتاب فوراً پیش کی جائے اور پھر ان الفاظ میں سپیکر صاحب نے اظہارِ برہمی کیا۔یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کہ ایک حوالہ کو تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ کتابیں اس طرح رکھیں یعنی چار پانچ کرسیاں ساتھ رکھ دیں۔جن ممبر صاحبان نے حوالہ جات تلاش کرنے ہیں ان کرسیوں پر بیٹھ کر تلاش کر سکتے ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے حوالہ جات دینے ہیں ادھر آ کر بیٹھیں لہذا وہ کتا بیں Ready ہونی چاہئیں تا کہ اٹارنی جنرل کو کوئی تکلیف نہ ہو اور ٹائم ضائع نہ ہو۔“ ابھی سپیکر صاحب کے یہ الفاظ ختم ہی ہوئے تھے کہ مفتی محمود صاحب نے جو عذر پیش کیا وہ بھی خوب تھا۔انہوں نے یہ دقیق نکتہ بیان فرمایا: ” جناب والا ان کا یہ ہے کہ جلد مختلف ہوتے ہیں۔ہم صفحہ اور لکھتے ہیں اور کتا۔ہمارے پاس دوسری آجاتی ہے۔“ جو لوگ کتابوں کو دیکھنے سے کچھ بھی تعارف رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک کتاب کے کئی ایڈیشن چھپتے ہیں، حوالہ دینے والے کا فرض یہ ہے کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے ایڈیشن کا نمبر اور سن ،اس کے پر لیں اور ناشر کا نام وغیرہ بتائے اور جس ایڈیشن سے صفحہ نمبر نوٹ کر کے بیان کرے اسی ایڈیشن کی کتاب کا رروائی کے دوران پیش کرے۔اسی طرح کتابوں کے مجموعہ کی اشاعت کی صورت میں مختلف ایڈیشنوں میں مختلف جلد نمبر ہو سکتے ہیں۔اگر ایک ایڈیشن سے حوالہ کا صفحہ نمبر نوٹ کیا جائے گا اور کتاب دوسرے ایڈیشن کی نکال لی جائے تو پھر ظاہر ہے کہ پیش کردہ عبارت اس طرح نہیں ملے