سلسلہ احمدیہ — Page 385
385 66 کسی تحریر میں یہ کہا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت کا انکار اور دوسرے مسیح موعود کا انکار۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔چونکہ اٹارنی جنرل صاحب معین الفاظ نہیں پڑھ رہے تھے اور عبارت مکمل بھی نہیں پڑھ رہے تھے اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔اس پر انہوں نے حوالہ پڑھا حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۵۔اس پر حضور نے فرمایا ” جوالفاظ اصل تھے چھوڑ گئے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب بس اتنا ہی کہہ سکے ”وہ تو verify کرلیں گے۔“ اور پھر یہ عجیب و غریب جملہ ادا فرمایا: ” پوزیشن clarify کرنی ہے۔یہ پڑھیں یا وہ پڑھیں۔“ اب پڑھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں تھا۔یہ اعتراض کرنے والے کا کام ہوتا ہے کہ وہ اصل حوالہ اور صحیح عبارت پیش کرے نہ کہ اعتراض کرنے کے بعد حوالہ تلاش کرتا رہے۔یا غلط حوالہ پکڑے جانے پر یہ کہے کہ اس سے فرق کیا پڑتا ہے۔اس طرح تو کوئی معقول گفتگو نہیں ہوسکتی۔اب ان کے حوالہ جات کی غلطیاں ایک عجیب و غریب صورت حال اختیار کر چکی تھی۔اگر اخبار کا حوالہ پیش کیا جارہا تھا تو پیش کرنے والے کو علم نہیں تھا کہ کس اخبار کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا حوالہ اس کتاب سے دیا جا رہا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر نہیں فرمائی تھی۔ایسی نامعلوم کتابوں کے حوالے پیش کئے جا رہے تھے جن کے متعلق خود انہیں معلوم نہیں تھا کہ لکھی کس نے تھی۔حضرت مسیح موعود کی کتب کے حوالہ جات بمعہ صفحہ نمبر پیش کئے گئے تو نہ صرف ان صفحات پر یہ عبارت موجود نہیں تھی بلکہ وہاں پر کسی اور موضوع کا ذکر ہورہا تھا۔یا پھر مسیح الفاظ پڑھنے کی بجائے بدل کر الفاظ پڑھے جا رہے تھے۔پہلے تو انہیں نرمی سے یہ بتایا گیا تھا کہ ان حوالہ جات کو چیک کر کے جواب دیا جائے گا لیکن اس مرحلہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔جب کارروائی شروع ہوئی تھی تو سپیکر صاحب نے اسی وقت کہا تھا کہ کتب اٹارنی جنرل صاحب کے قریب کر دی جائیں تا کہ وہ حوالہ اٹارنی جنرل صاحب گواہوں کو یعنی جماعت احمدیہ کے وفد کے اراکین کو دکھا سکیں۔لیکن یہاں یہ ہورہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک حوالہ بھی دکھانے کی زحمت نہیں کر رہے تھے۔اس مرحلہ پر شام کی کارروائی میں وقفہ کا اعلان ہوا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب سپیکر صاحبزادہ