سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 366 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 366

366 میں چھ ماشہ پیشاب پڑ جائے تو وہ اسے پاک سمجھتے ہیں۔اسی طرح شافعی اگر فرائض و شرائط حنفی کی رعایت نہ رکھیں تو ان کے پیچھے بھی نماز درست نہیں (۴۸)۔خدا تعالیٰ کے مامور کی تکذیب و تکفیر تو ایک طرف رہی ان علماء کا تو یہ مسلک تھا کہ اگر کوئی علماء کو برا بھلا کہے اور سب وشتم کرے تو یہ نہ صرف بد ترین اور فسق ہے اور ان کلمات کا کلمات کفر ہونے کا اندیشہ ہے۔اور اگر ایک شخص مؤذن کو برا بھلا کہے کہ وہ اذان کیوں دیتا ہے یہ کلمات کفر ہوں گے۔اور اگر کوئی شخص منکر حدیث ہوتو یہ کفر ہے اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے، نہ صرف یہ بلکہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ جہنم دائی نہیں ہے تو اس کلمہ پر بھی کفر کا اندیشہ ہے (۴۹)۔بعض علماء تو اس طرف گئے ہیں کہ قرآن شریف مخلوق ہے یا اگر یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رویت محال ہے تو یہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں کا فر کہنا چاہئے (۵۰)۔دیوبندی مسلک کی کتاب عزیز الفتاویٰ میں لکھا ہے اگر نکاح ثانی کو معیوب سمجھا جائے تو اس سے کفر کا اندیشہ ہے۔اور یہ بھی لکھا کہ ایک مرد صالح کو ڈانٹنے اور ذلیل کرنے سے آدمی فاسق اور بے دین ہو جاتا ہے (۴۸)۔اسی طرح دیو بندیوں کی طرف سے ان کے نمایاں عالم رشید احمد گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ شیعہ حضرات جو تعزیہ نکالتے ہیں وہ بت ہے اور تعزیہ پرستی کفر ہے، جب ایک شخص نے ان سے میلاد میں شرکت کرنے والوں کے متعلق جو یہ مانتے ہیں کہ رسول اللہ حاضر ہوتے ہیں اور بریلوی عالم احمد رضا خان صاحب کے بعض معتقدات کا ذکر کر کے ان کے متعلق سوال کیا تو رشید احمد گنگوہی صاحب نے جواب دیا جو شخص اللہ جل شانہ کے سوا عالم غیب کسی دوسرے کو ثابت کرے اور اللہ تعالیٰ کے برابر کسی دوسرے کا علم جانے وہ بے شک کا فر ہے اس کی امامت اور اس سے میل جول محبت مودت سب حرام ہیں۔روافض کے متعلق سوال کیا گیا تو گنگوہی صاحب نے فتویٰ دیا کہ علماء میں سے بعض نے ان کے متعلق کا فر کا حکم دیا ہے اور بعض نے ان کو مرتد قرار دیا ہے (۵۱)۔فرنگی محل کے عالم مولوی عبدالحی صاحب نے فتوے دیئے کہ بعض شیعہ فرقے کا فر ہیں (۵۲)۔حسام الحرمين على منحر الكفر والمین جو کہ بریلوی قائد احمد رضا خان صاحب کی تصنیف ہے اس میں لکھا ہے کہ وو ہر وہ شخص کہ دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو یقیناً کافر ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے اور اس کی جنازے کی نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ شادی