سلسلہ احمدیہ — Page 365
365 وو۔۔فَقَالَتِ الْعُلَمَاءُ فِي تَفْسِيرِ الْفُسُوقِ هَاهُنَا هِيَ الْمَعَاصِي قَالُوا فَلَمَّا كَانَ الظُّلْمُ ظُلُمَيْنِ وَالْفِسْقُ فِسْقَيْنِ كَذَالِكَ الْكُفْرُ كُفْرَانِ اَحَدُهُمَا يَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّةِ وَالْآخَرُ لَا يَنْقُلُ عَن الْمِلَّةِ (كتاب الايمان ،تصنيف احمد ابن تیمیه ، ناشر مطبع الانصاری، دهلی ص ۷۱ ۱) یعنی جس طرح ظلم دو قسم کا ہوتا ہے، فسق دو قسم کا ہوتا ہے کفر بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک کفر ملت سے نکالنے کا باعث بنتا ہے اور دوسرا کفر ملت سے نکالنے کا باعث نہیں بنتا۔اس کے علاوہ ، اس دور میں جماعت کے اشد مخالف مولوی شبیر عثمانی صاحب کا کہنا تھا:۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے كُفْرٌ دُونَ كُفْرِ کے الفاظ بعینم مروی نہیں ہیں بلکہ ان سے وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ“ کی تفسیر میں آئی اَلْكُفْرُ لَا يَنْقُلُ عَنِ الْمِلَّةِ منقول ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کفر چھوٹا بڑا ہوتا ہے، بڑا کفر تو ملت سے ہی نکال دیتا ہے جب کہ چھوٹا ملت سے نہیں نکالتا، معلوم ہوا کہ کفر کے انواع و مراتب ہیں۔۔۔۔(کشف الباری عما فی صحیح البخاری جلد دوم ، افادات شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ناشر مکتبہ فاروقیہ کراچی ص ۲۰۰) اب ہم اس فلسفہ کا جائزہ لیتے ہیں چونکہ احمدیوں کی بعض تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے، اس لئے انہیں آئین میں غیر مسلم قرار دینا چاہئے۔تو پھر ہمیں یہ اصول تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس فرقہ کی تحریروں میں دوسرے فرقہ کے لوگوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو اسے آئین میں تبدیلی کر کے غیر مسلم قرار دینا چاہئے۔اس اصول کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صدیوں سے مختلف فرقہ کے علماء دوسرے فرقوں کے متعلق اور ان کے ایمان کے بارے میں کیا فتاویٰ دیتے رہے ہیں۔حنفیوں کی کتاب عرفان شریعت میں لکھا ہے کہ غیر مقلدین کی بدعت بہت وجہ سے کفر تک پہنچی ہوئی ہے کیونکہ وہ اجماع تقلید اور قیاس کے منکر ہیں اور بقول ان کے انہوں نے انبیاء کی شان میں گستاخی کی ہے۔اور اسی کتاب میں یہ فتویٰ ہے کہ حنفیوں کی نماز غیر مقلدین کے پیچھے درست نہیں اور وجوہات میں سے یہ وجوہات بھی لکھی ہیں کہ اگر کٹورہ پانی