سلسلہ احمدیہ — Page 347
347 متعلقہ موازنہ پیش کر رہے تھے۔یہ مثال ہے کہ ایک طالب علم اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے لیکن داخلہ کے لیے جعلی اندراج کرتا ہے تا کہ اس جھوٹ سے ناجائز فائدہ اُٹھا سکے اور دوسری طرف ایک فرقہ ہے جو نوے سال سے دنیا کے بیسیوں ممالک میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہا ہے اور ان کے عقائد اچھی طرح سے مشتہر ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں مسلمان کہتے ہیں مسلمان لکھتے ہیں اور اچانک ایک ملک کی اسمبلی زبردستی ان کی مرضی کے خلاف یہ فیصلہ کرتی ہے کہ آج سے وہ قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں گے۔دونوں مثالوں میں کوئی قدر مشترک نہیں۔بہر حال کا رروائی میں ہونے والے سوالات زیر بحث موضوع کے قریب بھی نہیں آئے تھے کہ کارروائی مختصر وقفہ کیلئے رکی۔وقفہ کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔اٹارنی جنرل صاحب نے سوالات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ان سوالات کی طرز کا لب لباب یہ تھا کہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے یا اگر کوئی فرد یا گروہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے تو حکومت کو یہ اختیار ہے کہ اس امر کا تجزیہ کرے کہ وہ اس مذہب کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ نہیں۔اس لا یعنی بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ایسی مثالیں پیش کر رہے تھے جو یا تو غیر متعلقہ تھیں یا ایسی فرضی مثالیں تھیں جن کو سامنے رکھ کر کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔مثلاً انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتا لیکن وہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو کیا اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔اب یہ ایک فرضی مثال تھی جب کہ ایسا کوئی مسلمان فرقہ موجود ہی نہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہو اور یہ بھی کہتا ہو کہ ہم آنحضرت ﷺ پر ایمان بھی نہیں لاتے۔اور ایسی فرضی اور انتہائی قسم کی مثال پر کوئی نتیجہ نہیں قائم کیا جاسکتا۔پھر وہ یہ مثال لے بیٹھے کہ سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں صرف مسلمان جا سکتے ہیں لیکن اگر کوئی یہودی اپنے فارم پر اپنا مذہب مسلمان لکھے اور اس بنا پر وہاں پر داخل ہو کر جاسوسی کرنے کی کوشش کرے تو کیا وہاں کی حکومت اسے گرفتار کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔اس پر حضور نے یہ مختصر اور جامع جواب دیا کہ اسے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے الزام میں نہیں بلکہ ایک ملک میں جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جائے