سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 346 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 346

346 پاکستان میں صرف پانچ یا چھ احمدی تھے اور ان کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا تو ان کی تعداد کی بنا پر ان کو غیر مسلم نہیں قرار دیا جا سکتا۔اگر بالفرض پاکستان میں چھ سات کروڑ احمدی بھی تھے مگر ان کا عقیدہ غلط تھا تو اپنی زیادہ تعداد کی بنا پر وہ راسخ العقیدہ نہیں بن سکتے تھے۔اور نہ ہی ان کی تعداد سے ان کے مذہبی اظہار کے بنیادی حق پر کوئی فرق پڑتا تھا۔وقفہ سے کچھ دیر قبل یہ تاثر ابھر نا شروع ہوا کہ شاید اب زیر بحث معاملہ کے متعلق سوالات شروع ہوں۔انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطبہ جمعہ کا حوالہ دیا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آئین کے آرٹیکل ۱۸ اور ۲۰ میں مذہبی آزادی کی ضمانت کا حوالہ دیا تھا۔اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی کی اکثریت سے ان شقوں کو تبدیل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔کچھ مجھ نہیں آتی کہ وہ کیا نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہر ملک کے آئین میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اگر مطلوبہ تعداد میں اراکین اس کے حق میں رائے دیں تو ملک کے آئین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔لیکن آئین کی ہر شق اور ہونے والی ہر ترمیم کو بعض مسلمہ بنیادی انسانی حقوق کے متصادم نہیں ہونا چاہئے خاص طور پر اگر اسی آئین میں ان حقوق کی ضمانت دی گئی ہو۔مثلاً جس زمانہ میں جنوبی افریقہ کے آئین میں مقامی باشندوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے گئے تو آخر کار پوری دنیا نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور یہ عذر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ان کے آئین میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا۔اور اگر کسی ملک کی پارلیمنٹ ایسی کوئی آئینی ترمیم کر بھی دے جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاتا بلکہ بسا اوقات تو عدالت ہی اسے ختم کر دیتی ہے اور اندرونی دباؤ کے علاوہ پوری دنیا کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اس کو ختم کریں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس بات کا اظہار فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اسکو ہمیں مسلمان کہنا پڑے گا۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے ذہن میں اس بارے میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔وہ یہ بحث لے بیٹھے کہ آپ نے کہا ہے کہ قانون کی رو سے ہر فرد اور فرقہ کا مذہب وہی ہونا چاہئے جس کی طرف وہ اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے۔اس پر بیٹی بختیار صاحب یہ دور کی ا کوڑی لائے کہ اگر ایک مسلمان طالب علم ڈاؤ میڈیکل کالج میں اقلیتوں کی سیٹ پر داخلے کے لیے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرتا ہے تو کیا اسے قبول کرنا چاہئے۔اٹارنی جنرل صاحب یہاں بھی ایک غیر