سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 25 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 25

25 ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے فرمایا کہ جس منصوبے کو ہم نے بڑا سمجھا تھا آج ہماری آنکھ اسے چھوٹا پا رہی ہے۔ہمیں تو لائبریری کی ایک ایسی عمارت کی ضرورت ہے جس میں کم و بیش پانچ لاکھ کتابیں رکھی جائیں۔یہ ضرورت کا احساس ہے وقت آنے پر اس کے پورا کرنے کا سامان اللہ تعالیٰ خودفرمائے گا۔آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم ایک ماڈل لائبریری ہے جس میں بڑے سے بڑے کتب خانے کا نچوڑ ہے۔لائبریریوں کے قیام کی غرض مومنوں کے نزدیک صرف یہ ہونی چاہئے کہ دنیا میں قرآن کریم کے علوم پھیلیں اور محفوظ ہوں۔قرآن کریم کی تفسیر کے لئے جو کتب لکھی جائیں یا جو کتب تفسیر میں محمد ہوں وہ سب ہماری لائبریری میں موجود ہونی چاہئیں۔پھر رسول کریم ﷺ کے تمام ارشادات ہیں جو احادیث کے رنگ میں موجود ہیں وہ بھی قرآنِ کریم کی تفسیر پر مشتمل ہیں، اس طرح امت کے دوسرے مقربینِ الہی بھی جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں قرآن کے سیکھنے اور سکھانے میں صرف کیں جو کتب لکھیں وہ قرآن ہی کی تفسیر ہیں۔اس لئے وہ بھی فيها كتب قيمة میں شامل ہیں اور ہماری لائبریری میں موجود ہونی چاہئیں۔(۱۳) حضرت مصلح موعود کے خطبات، تقاریر اور کتب کی اشاعت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے باون سالہ دور خلافت میں حضور نے جو خطبات ارشاد فرمائے ، جو تقاریر کیں اور جو کتب آپ نے تحریر فرمائیں وہ ایک ایسا علمی خزانہ ہے جسے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنا نہایت ضروری تھا۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے اس اہم فریضہ پر کام شروع کیا۔پہلی جلد خطبات عید الفطر پر مشتمل تھی جو کہ ۱۹۷۰ء کے جلسہ سالانہ پر شائع کی گئی۔خطبات عید الاضحیٰ کی جلد ۱۹۷۵ء میں اور حضور کے بیان فرمودہ خطبات نکاح کی جلد ۱۹۷۹ء میں منظر عام پر آئی۔اس کے بعد کچھ نقار بر تو شائع ہوئیں لیکن عملاً یہ کام ایک طویل عرصہ تک ملتوی رہا۔پھر جب مکرم ناصر احمد شمس صاحب ۱۹۹۲ء میں سیکریٹری فضل عمر فاؤنڈیشن مقرر ہوئے تو اس اہم کام کو از سر نو شروع کیا گیا اور ۲۰۱۰ ء تک حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات کی ۱۸ جلدیں طبع ہو چکی ہیں ، جن میں ۱۹۳۷ء تک حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات شامل ہیں۔اور حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیف فرمودہ کتب کی ۲۲ جلدیں طبع ہو چکی ہیں، ان ۲۲ جلدوں میں حضرت مصلح موعودؓ کی ۱۹۵۲ء تک کی تصانیف شامل ہیں۔