سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 313 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 313

313 اکثر مقامات پر تو قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو خاموش تماشائی بن کر کھڑے تھے یا پھر مفسدین کی اعانت کر رہے تھے۔لیکن جب وزیر اعظم بھٹو صاحب نے اس مسئلہ پر ۳ جون کو ایوان میں تقریر کی تو اس بات کا اشارہ دیا کہ اس ضمن میں کارروائی In Camera کی جاسکتی ہے۔جب وزیر قانون نے تمام ایوان کو پیشل کمیٹی میں تبدیل کر کے کارروائی شروع کرنے کی تجویز پیش کی تو ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ کارروائی In Camera ہوگی۔تمام ایوان کا سپیشل کمیٹی کے طور پر اجلاس شروع ہوا تو پھر یہ قانون منظور کیا گیا کہ کارروائی In Camera ہوگی۔آخر وزیر اعظم سے لے کر نیچے تک سب کو رس میں اس بات کا ورد کیوں کر رہے تھے کہ کارروائی خفیہ ہو اور سرکاری اعلان کے علاوہ اس پر کوئی بات پبلک میں نہ آئے۔یہ اس لیے تھا کہ نوے سال کا تجربہ انہیں یہ بات تو سکھا چکا تھا کہ وہ دلائل میں جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ورنہ جماعت نے جن پر ہر قسم کے مظالم ہو رہے تھے کبھی اس بات کا مطالبہ پیش ہی نہیں کیا تھا کہ اس کا رروائی کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔تین جولائی کو کارروائی پھر سے شروع ہوئی اور مزید قواعد بنائے گئے اور ایک بار پھر In Camera یعنی خفیہ کارروائی کے اصول کا سختی سے اعادہ کیا گیا۔منظورشدہ قواعد میں قاعدہ نمبر ۳ یہ تھا۔Secret Sittings The sittings of the committee shall be held in camera and no strangers shall be permitted to be present at the sittings except the secretary and secretary Ministry of law and parliamentary affairs, and such officers and staff as the chairman may direct۔یعنی کمیٹی کے اجلاسات خفیہ ہوں گے اور سوائے سیکریٹری اور سیکریٹری وزارت قانون اور پارلیمانی امور اور ان افسران کے علاوہ جن کی بابت صاحب صدر ہدایت جاری کریں کوئی شخص ان اجلاسات کو ملاحظہ نہیں کر سکے گا۔ویسے تو اپوزیشن اور حکومت کے اراکین ہر معاملہ میں ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے تھے لیکن اس معاملہ میں اپوزیشن کی طرف سے بھی یہ نقطہ اعتراض نہیں اُٹھایا گیا کہ اس قدر خفیہ کارروائی کی ضرروت کیا ہے۔انہیں بھی یہی منظور تھا کہ اس کا رروائی کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔(۳۴)