سلسلہ احمدیہ — Page 302
302 کے اور اس کی صفات دہرانے کے اور کچھ نہیں مانگا۔میں نے خدا سے عرض کیا کہ خدایا تو مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ ایک احمدی کو کیا چاہئے اے خدا ! جو تیرے علم میں بہتر ہے وہ ہمارے ہر احمدی بھائی کو دے دے۔میں کیا مانگوں میرا تو علم بھی محدود ہے میرے پاس جو خبریں آرہی ہیں وہ بھی محدود ہیں اور کسی کے لیے ہم نے بد دعا نہیں کرنی ہاں یا درکھو بالکل نہیں کرنی۔خدا تعالیٰ نے ہمیں دعائیں کرنے کے لیے اور معاف کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس نے ہمیں نوع انسان کا دل جیتنے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس لئے ہم نے کسی کو نہ دکھ پہنچانا ہے اور نہ ہی کسی کے لیے بد دعا کرنی ہے۔آپ نے ہر ایک کے لیے خیر مانگنی ہے۔یا درکھو ہماری جماعت ہر ایک انسان کے دکھوں کو دور کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔لیکن اپنے اس مقام پر کھڑے ہونے کے لیے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے اس طرح دعائیں کی جائیں کہ آپ کی خواہیں بھی استغفار سے معمور ہو جائیں۔‘ (۲۵) پندرہ جون سے تمہیں جون تک کے حالات جون کے آخری دو ہفتہ میں بھی جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ کی آگ بھڑ کانے کی مہم پورے زور وشور سے جاری رہی۔اور اب یہ فتنہ پرور اس بات کے لیے بھر پور کاوشیں کر رہے تھے کہ کسی طرح احمدیوں کا معاشی ، معاشرتی اور کاروباری بائیکاٹ اتنا مکمل کیا جائے کہ اس کے دباؤ کے تحت ان کے لیے جینا ناممکن بنادیا جائے اور وہ اپنے عقائد کو ترک کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ہم اس مرحلہ پر پڑھنے والوں کو یہ یاد دلاتے جائیں کہ جیسا کہ ہم ۱۹۷۳ء کی ہنگامی مجلس شوری کے ذکر میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ مخالفین یہ منصوبہ بنارہے ہیں کہ احمدیوں پر اتنا معاشی اور اقتصادی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائیں۔اور ۱۹۷۴ء میں ہی مکہ مکرمہ میں جو رابطہ عالم اسلامی کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں بھی یہ قرارداد منظور کی گئی تھی کہ احمدیوں کا معاشی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کو سرکاری ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔اور اب فسادات شروع ہونے کے بعد ان مقاصد کے حصول کے لئے ہر طرح کا ناجائز ذریعہ استعمال کیا جارہا تھا۔