سلسلہ احمدیہ — Page 300
300 تھا۔اس مرحلہ پر حکومت وقت کے جو اعلانات شائع ہو رہے تھے ان کی روش کا اندازہ ان مثالوں سے ہو جاتا ہے۔۱۲ جون کو وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے صاحب نے بیان دیا کہ حکومت قادیانیت کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ جماعت احمدیہ اور دیگر فرقوں کا مذہبی اختلاف ایک مذہبی معاملہ ہے لیکن حنیف رامے صاحب یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ یہ حکومت کا کام ہے مذہبی اختلافات کے معاملات کا مستقل حل تلاش کرے۔اس کے ساتھ رامے صاحب نے شورش بر پا کرنے والوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ امیر جماعت احمدیہ کو شامل تحقیق کر لیا گیا ہے۔اور پھر اعلان کیا کہ ہمارے اور عامۃ المسلمین کے جذبات اور عقائد ایک ہیں اور پھر یہ خوش خبری سنائی کہ صوبہ پنجاب میں مکمل امن و امان قائم ہے اور پھر مولویوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن قائم کرنے کا کام اکیلے حکومت وقت نہیں کر سکتی تھی عوام کے شعور ، اخبارات اور علماء کے تعاون سے کام ممکن ہوا ہے۔(۲۱) جیسا کہ ہم پہلے ہی جائزہ لے چکے ہیں کہ جس وقت رامے صاحب نے یہ بیان دیا اس وقت پورے صوبے میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی ، ان کے گھر اور املاک کو آگیں لگائی جا رہی تھیں اور لوٹا جارہا تھا لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کو صوبے میں امن و امان نظر آرہا تھا۔مولویوں کا گروہ پورے ملک میں لوگوں کو اکسا رہا تھا کہ وہ احمدیوں کا خون بہائیں اور وزیر اعلیٰ صاحب ان کے کردار کو سراہ رہے تھے۔اخبارات احمدیوں کی قتل و غارت اور ان پر ہونے والے مظالم کا مکمل بائیکاٹ کیسے بیٹھے تھے اور ان میں روزانہ جماعت کے خلاف جذبات بھڑ کانے والا مواد شائع ہوتا تھا اور اپیلیں شائع ہو رہی تھیں کہ احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دو، ان سے روز مرہ کا لین دین بھی نہ کر ولیکن پنجاب کے وزیر اعلی اخبارات کی تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے امن قائم کرنے کے لیے مثالی تعاون کیا ہے۔وزیر اعظم کا انکشاف کہ ان حالات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کار فرما ہے ۱۳ / جون ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک نشری تقریر کی اور اس میں کہا کہ جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں ہے۔اور کہا کہ بجٹ کا اجلاس ختم ہوتے ہی