سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 298 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 298

298 اکثریت احمدیوں کے خلاف ہے۔لیکن اگر ان کا نظریہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر صورت حال یہ بنے گی کہ اگر کسی ملک کی اکثریت کسی اقلیت کے خلاف ہو جائے تو ہمیں لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ قصور اس اقلیت کا ہی ہے اور اس لئے ان پر ہر ظلم روا ہے۔مثلاً اگر انتہا پسند ہندوؤں کے زیر اثر ہندوستان کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ہو جائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انتہا پسند ہندوستان میں بہت ووٹ بھی لیتے رہے ہیں اور ان کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا تھا۔بلکہ جماعت اسلامی یا پاکستان کی دوسری مذہبی پارٹیوں کو تو کبھی اتنی کامیابی نہیں ملی جتنی ہندو انتہا پسند پارٹیوں کو ہندوستان میں ملتی رہی ہے۔تو اس صورت میں اگر یہ اکثریت میں ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف قدم اُٹھا ئیں تو کیا پھر پروفیسر غفور صاحب یہ نتیجہ نکالیں گے کہ قصورضرور ہندوستان کے مسلمانوں کا ہی ہے۔مگر یہ نظریہ انصاف کے مطابق نہیں ہوگا۔بلکہ اس اندھے تعصب کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ جن پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ان پر لگائے جانے والے الزاموں کی حقیقت کیا ہے۔یا پھر ہم یہ مثال لے سکتے ہیں کہ اگر کسی مغربی ملک میں وہاں کی اکثریت وہاں کے مسلمانوں سے ناروا سلوک کرے اور ان کے خلاف جذبات کو خواہ مخواہ ہوا دی جائے تو کیا لا زماً اس سے نتیجہ یہ نکلے گا قصور وار مسلمان ہی تھے۔کوئی بھی صاحب عقل اس فلسفہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ان کا دوسرا الزام بھی بہت دلچسپ ہے اور وہ یہ کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تعلقات کی بنا پر بھرتیاں کیں۔اس سوال کے پس منظر میں یہ الزام بھی مضحکہ خیز ہے۔سوال تو یہ تھا کہ ۹ جون ۱۹۷۴ء کو اپوزیشن نے جس میں پروفیسر غفور صاحب کی پارٹی بھی شامل تھی یہ مطالبہ کیوں کیا کہ احمد یوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کر دیا جائے تو اس کے جواب میں اس مطالبہ کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ اس مطالبہ سے کوئی چھپیں سال پہلے ایک احمدی وزیر نے تعلقات کی بنا پر غلط بھرتیاں کی تھیں اس لئے ۱۹۷۴ء میں یہ مطالبہ پیش کرنا پڑا۔اور یہ الزام بھی غلط ہے کیونکہ اس وقت ۱۹۵۳ ء کی عدالتی تحقیقات کے دوران جماعت اسلامی نے بھی اپنا بیان اور موقف پیش کیا تھا اور اس تحریری موقف میں بھی یہ الزام لگایا تھا کہ احمدیوں نے آزادی کے بعد اپنے آپ کو حکومتی اداروں میں بالخصوص ایئر فورس ، آرمی ،سفارت خانوں میں ، مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں مستحکم کر لیا تھا۔اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ وزارت خارجہ میں تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ تھے لیکن آرمی، ایئر فورس ، صو بائی حکومتوں اور