سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 287 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 287

287 ان کے علاوہ اس روز ماموں کانجن ، کمالیہ، بھیرہ، دنیا پور ، عارفوالہ، بہاولنگر ، خانپور ضلع رحیم یارخان، سانگرہ، سانگلہ ہل، حافظ آباد، مرید کے، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، مری، کیمبل پور اور مظفر آباد بھی فسادات کی لپیٹ میں آگئے۔اسی روز ان فسادات نے پنجاب کی حدود سے نکل کر دوسرے صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چنانچہ صوبہ سندھ میں سکھر میں اور سرحد میں پشاور میں بھی فسادات شروع ہو گئے۔احمدیوں پر ہر طرح کے وحشیانہ مظالم کئے جارہے تھے۔ان پر ارتداد کے لیے دباؤ ڈالا جار ہا تھا لیکن حکومت اگر کچھ کر رہی تھی تو احمدیوں کو ہی گرفتار کر رہی تھی تا کہ ان کی قوت دافعت دم توڑ دے۔اس روز بھی مفسدین پر گرفت کرنے کی بجائے گوجرانوالہ میں ان بارہ خدام کو گرفتار کر لیا گیا جو اپنی مسجد کی حفاظت کے لیے ڈیوٹی دے رہے تھے۔اور کیمبلپور میں احمدیوں کو پولیس نے حکم دیا کہ وہ اپنے گھروں تک محد و در ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ۳۰ مئی کو پنجاب اسمبلی میں یہ اعلان کیا کہ ربوہ کے واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔اور انہوں نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ ربوہ سے اسے افراد کوگرفتار کیا جا چکا ہے اور جرم ثابت ہونے پر سخت سزادی جائے گی۔(۱۱) صمدانی ٹریبیونل کی کاروائی شروع ہوتی ہے ہائی کورٹ کے جج جسٹس صمدانی نے جنہیں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کیا گیا تھا اسی روز لاہور میں ابتدائی کام شروع کر دیا۔یہاں ایک امر قابل ذکر ہے کہ ایک عدالتی کمیشن ۱۹۵۳ء میں بھی قائم کیا گیا تھا لیکن اس کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ ۱۹۵۳ء کے فسادات کے تمام پہلوؤں پر تحقیق کر کے رپورٹ مرتب کرے اور اس کے دائرہ کار میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر تحقیق کرنا بھی آتا تھا اور احمدی پر ہونے والے مظالم کے متعلق تحقیق کر کے اس کے بارے میں بھی مواد بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا تھا۔لیکن جب کمیشن کے سپر دصرف یہ کام تھا کہ وہ ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ پر تحقیق کرے۔حالانکہ جب اس کمیشن نے کام شروع کیا تو پورے ملک میں احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم کئے جارہے تھے۔ان کی املاک کو لوٹا جا رہا تھا ان کے گھروں کو نذر آتش کیا جار ہا تھا ، ان کو شہید کیا جا رہا تھا لیکن ان سب واقعات پر کبھی تحقیقات نہیں کی گئیں ان کے بارے میں حقائق کبھی قوم کے