سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 280 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 280

280 نہیں کہا جاسکتا تھا۔لیکن فسادات کو ہوا دینے کے لئے ایک طرف تو بعض اخبارات اور جرائد لکھ رہے تھے کہ نشتر میڈیکل کالج کے کئی طلباء کی حالت نازک تھی اور دوسری طرف یہی جرائد لکھ رہے تھے کہ جب یہ طلباء لائلپور پہنچے تو ان کو پلیٹ فارم پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔اور سرکاری اہلکاروں نے انہیں کہا کہ وہ لائلپور کے ہسپتال میں آکر علاج کروا سکتے ہیں تو ان طلباء نے کہا کہ وہ ملتان میں اپنے ہسپتال جا کر علاج کرائیں گے (۵)۔یہ کہنے والے طب کے پیشہ سے منسلک تھے اور یقیناً جانتے تھے کہ شدید زخمی کے لیے علاج میں چار گھنٹے بلکہ اس سے بھی زیادہ کی یہ تاخیر جان لیوا بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے لائلپور کے ہسپتال میں علاج کے لیے جانا پسند نہیں کیا حالانکہ یہ ہسپتال ریلوے سٹیشن کے بالکل قریب واقعہ ہے۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان طلباء میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں تھا۔ان میں سے علاج کے لیے کوئی لائلپور کے ہسپتال تو نہیں گیا لیکن اسی وقت ان میں سے کچھ زخمی طلباء لائلپور کے تعلیمی اداروں میں پہنچ گئے اور وہاں طلباء کو جلوس نکالنے پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔اخبارات اور رسائل میں جو خبریں آرہی تھیں ان میں بھی عجیب تضاد پایا جارہا تھا۔مثلاً جماعت کے اشد مخالف جریدے چٹان نے جو خبر شائع کی اس میں لکھا کہ ربوہ ٹیشن پر پانچ چھ سو گرانڈیل قادیانیوں نے نشتر کالج کے طلباء پر حملہ کیا۔بلکہ اپنی سرخی میں لکھا کہ ” نشتر میڈیکل کالج کے ایک سو طلباء پر ربوہ میں قادیانی کتوں کا حملہ (۵)۔دوسری طرف اخبار نوائے وقت نے اسی واقعہ کی رپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حملہ کرنے والے قادیانیوں کی تعداد پانچ ہزار تھی۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹنگ حقائق پر بنیا درکھنے کی بجائے اندازوں اور مبالغوں کی بنا پر کی جارہی تھی۔(۶) اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی اور ڈی آئی جی پولیس ربوہ پہنچ گئے (۸۷)۔اسی رات ربوہ میں پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں اور ستر سے زائد احباب کو گرفتار کیا گیا۔کئی ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جو اس واقعہ میں ملوث تھے لیکن کئی اور ایسے راہ چلتے احباب کو بھی گرفتار کر لیا گیا جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔مقصد صرف گنتی کو پورا کرنا تھا۔ایک مرحلہ پر پولیس والے تعلیم الاسلام کالج پہنچ گئے اور پرنسپل صاحب سے کہا کہ ہمیں یہاں حکومت کی طرف سے سو ڈیڑھ سولڑ کا گرفتار کرنے کا حکم ہے۔پرنسپل صاحب نے کہا کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا کالج کے جوطلبا کا لج میں موجود تھے، وہ