سلسلہ احمدیہ — Page 279
279 جب نشتر میڈیکل کالج کے یہ طلباء واپسی پر پھر ربوہ سے گزر رہے تھے تو میں نے ربوہ کے کچھ نوجوانوں کوٹیشن جاتے ہوئے دیکھا اور مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے حضور کی ہدایت کو سمجھا نہیں اور میں ان کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا کہ حضور نے ان طلباء کو مارنے سے منع کیا ہے لیکن ایک کے علاوہ باقی نے میری بات پر پوری طرح تو جہ نہیں دی۔جب یہ طلباء ۲۹ مئی کو واپس ربوہ سے گزرے تو ربوہ کے کچھ جو شیلے نو جوان سٹیشن پر جمع ہو گئے اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو ان کی غیر مہذبانہ زیادتیوں کا سبق سکھانے کے لئے ان سے الجھ پڑے۔ان نوجوانوں کا یہ فعل یقیناً جماعت احمدیہ کی تعلیمات اور ملکی قانون کے خلاف تھا۔اور اس کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی واضح ہدایات کے بھی خلاف تھا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کچھ عقل کا مظاہرہ بھی ہونے لگا اور گاڑی چلنے سے قبل ربوہ کے نو جوانوں نے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو قریب واقعہ رحمت بازار سے مشروب منگوا کر پلایا۔اور ربوہ کے بعض لڑکے جو کہ حضور کی ہدایات سے واقف تھے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر گر کر انہیں مارنے والوں کی ضربوں سے بچانے لگے (۴) اور اس واقعہ کی وجہ سے دو گھنٹے ٹرین وہاں پر رکی رہی۔اور جب سٹیشن ماسٹر صاحب نے جو کہ احمدی تھے گاڑی کو چلانے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ گاڑی کا ویکیوم نکل گیا ہے اور گاڑی چل نہیں سکتی اور پھر اس کو ٹھیک کرنے میں بھی دیر لگی۔فسادات کا آغاز جیسا کہ اس صورتِ حال میں ہونا ہی تھا چند دنوں میں ہی منظم طریق پر پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑکا دی گئی بلکہ اسی روز ہی مولویوں نے پورے ملک میں فسادات کی آگ بھڑ کانے کی کوششیں شروع کر دیں۔یہ نا خوشگوار واقعہ تو بہر حال ہوا تھا اور جیسا کہ ہم بعد میں اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشادات پیش کریں گے۔لیکن اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جار ہا تھا اور ایک منظم طریق کے ذریعہ اس کی تشہیر کی جارہی تھی اور اس کو بنیاد بنا کر پورے ملک میں فسادات بر پاکئے جا رہے تھے۔یہ حقیقت ہے کہ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔کسی مضروب کی ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔کسی مضروب کی چوٹ کو قانون کی رو سے Grievious injury