سلسلہ احمدیہ — Page 278
278 کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔اور پھر ریلوے حکام نے یہی فیصلہ کیا کہ صرف ایک ہی ہوگی مہیا کی جاسکتی ہے اور پھر اس درخواست پر کہ یہ بوگی خیبر میل کے ساتھ لگائی جائے یہی فیصلہ برقرار رکھا کہ یہ بوگی چناب ایکسپریس کے ساتھ لگائی جائے۔چنانچہ جگہ کی قلت کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا گیا کہ اب صرف طلباء جائیں گے اور طالبات ، اساتذہ اور ان کے اہلِ خانہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے۔ٹریبونل نے انہیں اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ۲۲ مئی کو جب یہ طلباء ریلوے سٹیشن سے گزرے تو کسی نے انہیں جماعت کے اخبار روزنامہ الفضل کی کاپی پیش کی۔ان طلباء نے احمدیت کے خلاف نعرے لگائے۔اس رپورٹ میں درج شواہد کے مطابق ان میں سے بعض طلباء نے اپنے کپڑے اتار دئیے اور ان کے جسم پر صرف زیر جامہ ہی رہ گئے اور انہوں نے اس عریاں حالت میں رقص کرنا شروع کیا اور ربوہ کے لوگوں سے حوروں کا مطالبہ کیا۔لیکن اس اشتعال انگیزی کے باوجود کوئی ہنگامہ نہیں ہوا اور گاڑی ربوہ سے نکل گئی۔یہاں پر دو باتیں قابل ذکر ہیں کہ ایک تو یہ کہ اگر یہ طلباء اپنی درخواست کے مطابق خیبر میل سے جاتے تو یہ گروپ ربوہ سے نہ گزرتے اور اگر ان کے ساتھ ان کے کالج کے اساتذہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اور کالج کی طالبات بھی ہوتیں تو یہ طلباء اس طرز پر اشتعال انگیزی نہ کر سکتے۔اور یہ ایک حکومتی محکمہ کا فیصلہ تھا کہ انہیں چناب ایکسپریس سے بھجوایا جائے۔اور دو بوگیاں بھی ریلوے نے مہیا نہیں کیں جن کی وجہ سے ایسی صورت پیدا ہوئی کہ صرف لڑکے ہی اس گروپ میں شامل ہو سکے۔۲۲ رمئی کے واقعہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور احباب جماعت کو ارشاد فرمایا کہ کسی طرح بھی اشتعال میں نہیں آنا اور صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے۔اور حضور کا یہ ارشاد صرف خطبہ جمعہ تک محدود نہیں تھا بلکہ حضور اس امر کی اس کے بعد بھی بار بار تلقین فرماتے رہے کہ ہر حال میں صبر کا دامن پکڑے رکھنا ہے۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد ابن مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب جو حضور کے بھتیجے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ۲۲ رمئی ۱۹۷۴ء کے بعد گھر میں بھی اور ڈیوٹی دیتے ہوئے یہ بات بار بار حضور سے صبر کی تلقین سنی۔مجھے الفاظ یاد نہیں ہیں لیکن حضور نے یہ بار بار فرمایا تھا کہ ہم نے ہر صورت میں صبر سے کام لینا ہے اور کوئی سختی نہیں کرنی۔اور یہ بات میرے ذہن میں حضور کی یہ ہدایت اتنی پختگی سے گھر کر چکی تھی کہ ۲۹ مئی کو