سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 260 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 260

260 العزیز محسوس کرتے تھے کہ ان کے لیے میدان خالی ہے۔اب وہ حجاز پر قبضہ کر کے وہ اپنی سلطنت کو مزید وسیع کر سکتے تھے۔۱۹۲۴ء میں انہوں نے حجاز پر حملہ کر دیا۔جب طائف پر قبضہ ہوا تو سعودی افواج نے کافی قتل وغارت کی۔شریف مکہ نے مدد کے لیے بار بار برطانوی سلطنت سے اپیل کی لیکن سب بے سود۔اس اختلاف کے بعد اب برطانوی حکومت ان کی مدد کے لیے تیار نہیں تھی۔ان کی افواج عبد العزیز کی افواج کے سامنے شکست کھاتی گئیں۔اس طرح موجودہ سعودی عرب وجود میں آیا۔اس ابتدائی تاریخ کے جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شروع ہی سے سعودی فرمانرواؤں اور برطانوی حکومت کے قریبی تعلقات تھے۔انہوں نے اپنی ریاست کے لیے یہ درجہ قبول کیا تھا کہ اسے برطانوی حکومت کی Protectorate کا درجہ حاصل ہو۔اور یہاں تک معاہدہ کیا کہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد نہیں مقرر کیا جائے گا جو برطانوی حکومت کے خلاف ہو۔اورسعودی حکومت کسی اور حکومت سے خط و کتابت تک نہیں کرے گی اور کسی اور ملک کو اپنی زمین پر مراعات نہیں دے گی۔اور وہ سالہا سال برطانوی حکومت سے مالی مدد اور اسلحہ لیتے رہے اور اس کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی کسی غیر مسلم حکومت سے کوئی جنگ یا جہاد نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مسلمان حکومتوں سے جنگ کرتے رہے اور ایسا برطانوی حکومت کے منشا کو پورا کرنے کے لیے بھی کیا گیا۔اور جب حجاز کے حکمران نے اس وجہ سے برطانیہ سے معاہدہ کرنے سے انکار کیا کہ اس کی شرائط میں برطانیہ کا فلسطین پر مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑتا تھا اور اس سے لازماً یہودیوں کو اس بات کا موقع مل جاتا تھا کہ وہ فلسطین میں قدم جمائیں۔اور بعد میں عملاً ایسا ہی ہوا۔تو عبد العزیز نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے شریف مکہ کی ریاست پر حملہ کیا اور ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد کی تاریخ بھی اس ابتدائی تاریخ سے مختلف نہیں۔لیکن اس معروف تاریخ کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں The Brirtian and Saudia Arabia 1925-1939, The Imperial Oasis by Clive Leatherdale 372 page The Kingdom by Robert Lacey, 168۔188 یہ امر قابل حیرت ہے کہ اس تاریخی پس منظر کے باوجود سعودی حکومت کا اصرار تھا کہ قادیانیوں کو برطانوی استعمار نے اپنے مقاصد کے لیے کھڑا کیا تھا اور قادیانی برطانیہ کے مقاصد کے لیے کام