سلسلہ احمدیہ — Page 214
214 ہے۔البتہ اس قسم کے اعلان کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں اور نہ خود ہی اپنے اسلام کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی فائدہ ہے۔اسلام کا فائدہ تو تب ہے جب کہ انسان خدا کی نگاہ میں بھی مسلمان ہو کیونکہ اسلام کوئی شہر کی شیشی تو نہیں کہ اسے آپ گھر لے جائیں گے اور بوقت ضرورت استعمال کر لیں گے یا یہ کوئی ریشم کے نرم و نفیس کپڑے تو نہیں جسے آپ اپنی عورتوں کو پہنا دیں گے اور وہ ان سے خوشی اور فخر محسوس کریں گی۔اسلام تو ایک ایسی حقیقت ہے جس کی معرفت کا راز صرف اسی شخص پر کھلتا ہے جو خدا کا ہو کر خدا کی نگاہ میں حقیقی مسلمان ٹھہرتا ہے۔خدائی ٹھیکیداروں کی طرف سے کسی کو مسلمان بنانے یا نہ بنانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔۔پس یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں سراسر بے ہودہ ہیں ان سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں لیکن ہم نے تدبیر ضرور کرنی ہے اور وہ ہم انشاء اللہ کریں گے۔(۲) جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اس بات کے آثار واضح نظر آ رہے تھے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک گہرا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک جماعتی عہد یداران میں سے ایک بڑی تعداد کو بھی اس کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔لیکن اب یہ ضروری تھا کہ کم از کم جماعت احمدیہ کے ذمہ دار افراد کو اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔اس تمہید کے بعد حضور نے نمائندگان مجلس مشاورت کو آگاہ فرمایا کہ اب جماعت احمدیہ کے خلاف تین خطر ناک منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں۔اور ان منصوبوں سے محفوظ رہنے کی حکیمانہ نصائح سے نوازا۔حضور نے فرمایا کہ پہلا منصوبہ،جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دو مبارک رویا میں دی تھی ، وہ دوسیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا ہے۔اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں امام جماعت اور بہت سے افراد جماعت کو قتل کر دیا جائے۔حضور نے فرمایا کہ انہی رویا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس منصوبے کو نا کام کر دے گا اور انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔اور فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ ہمیں کامیابی کی بہت بشارتیں دی گئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں بھول جائیں۔ہم نے جو تد بیر کرنی ہے اور بیداری کا نمونہ دکھانا ہے اور اپنے مخالف اور معاند کے سامنے یک جہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے اور اس دنیا سے استغناء کے جو مظاہرے دنیا کو دکھانے ہیں وہ آسمان سے فرشتوں نے آکر نہیں دکھانے یہ تو ہمارا کام