سلسلہ احمدیہ — Page 213
213 توانا ہے جو ہماری ہر ایک احتیاج کو پورا کرنے والا ہے۔دنیا نے ہماری ضرورتوں کو کیا پورا کرنا ہے اور ہم نے ان سے کیا مانگنا ہے۔غرض میاں طاہر احمد صاحب کو میں نے روک دیا کہ آپ باہر جائیں ہی نہ ہمیں ضرورت ہی کوئی نہیں تا ہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے پندرہ بیس فیصد لوگ اس قسم کی باتیں کریں تو ہم نے پارٹی سے ناراض ہو جانا ہے۔ان پندرہ بیس فیصد لوگوں سے بھی اگر کہیں اتفاقاً ملاقات ہو جائے تو کیا وہ حسنِ اخلاق جو اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اخلاق کا ہماری زندگیوں میں دوبارہ احیاء فرمایا ہے۔وہ ہم چھوڑ دیں گے؟ نہیں ہرگز نہیں ! ہم اسی طرح بشاشت اور مسکراتے چہروں کے ساتھ ان سے ملیں گے اور ان کی نالائقیوں کا ہم ان کے سامنے اظہار بھی نہیں کریں گے۔‘(۱) پھر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے موجودہ حالات پر منطبق ہونے والے قرآن کریم کے بعض احکامات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بیان فرمائے اور ان کی روشنی میں جماعتِ احمدیہ کی اہم ذمہ داریاں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کا صحیح طریق بیان فرمایا اور فرمایا کہ ہمیں اجتماعی زندگی میں فساد سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور فساد کرنے والوں کو قرآنِ کریم سخت انتباہ کرتا ہے البتہ خود حفاظتی میں تو گولی چلانا بھی جرم نہیں ہے۔حضور نے اس ضمن میں ۱۹۴۷ء کے پُر آشوب دور کا ذکر فرمایا جب ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم تھا اور افراتفری پھیل گئی تھی۔لیکن اس دور میں بھی احمدیوں نے دلیری سے حالات کا مقابلہ کیا تھا۔پھر حضور نے حال میں ہی منظرِ عام پر آنے والی آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا۔” میں نے اپنے اس خطبہ میں جس میں میں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی ایک قرارداد پر تبصرہ کیا ہے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے هو سمكم المسلمین کہ کر خود ہمارا نام مسلمان رکھا ہے اور پھر اسی آیہ کریمہ میں اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ میں نے تمہارا نام مسلمان کیوں رکھا ہے۔دوست اس آیت کو پیش نظر رکھیں اور اسے بار بار پڑھتے رہیں اور اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ ہمیں خدائے قادر و توانا نے مسلمان کا نام دیا ہے۔جس آدمی کو خدا نے مسلمان کا نام دیا ہوا سے خدا کی مخلوق میں سے کوئی یا ساری مخلوق مل کر بھی غیر مسلم کیسے قرار دے سکتی