سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 190 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 190

190 مسجد اقصیٰ کا افتتاح ربوہ میں ایک عرصہ سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ یہاں پر ایک جامع مسجد تعمیر کی جائے۔قیامِ ربوہ سے اب تک مسجد مبارک میں ہی جمعہ اور عید کی نماز میں ادا کی جاتی تھیں۔لیکن وقت کے ساتھ مسجد مبارک میں جگہ کی تنگی بڑھتی جارہی تھی خاص طور پر جلسہ اور اجتماعات کے مواقع پر ایک بڑی مسجد کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی تھی۔خلافت ثانیہ کے آخری سالوں کے دوران مجلس مشاورت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا اور حضور کی منظوری سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ احباب جماعت کو اس امر کی تحریک کی جائے کہ ربوہ کی جامع مسجد کے لئے مطلوبہ رقم عطایا کے ذریعہ جمع کی جائے۔کچھ احباب نے اس مد میں رقوم بھجوانی شروع کیں لیکن اس دوران ایک مخلص احمدی نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس امر کی گزارش کی کہ وہ اس مسجد کی تعمیر کے تمام اخراجات پیش کرنا چاہتے ہیں۔اور یہ درخواست کی کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔حضور نے از راہ شفقت اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔(۱) صدرا انجمن احمدیہ نے جامع مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ افراد ی کمیٹی مقر رکی۔اس کمیٹی کی سفارش پر مکرم محترم شیخ مبارک احمد صاحب کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اکتوبر ۱۹۶۶ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا اور ۱۹۷۳ء میں اس کی تعمیر مکمل ہو گئی۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث خود اس مسجد کی تعمیر کے مختلف مراحل میں دلچسپی لیتے رہے۔حضور نے درجنوں مرتبہ آکر تعمیر کا جائزہ لیا۔اور اس بات کی نگرانی فرمائی کہ اس تعمیر میں افادیت کا پہلو بہر حال مقدم رہے اور اخراجات میں کسی قسم کا ضیاع نہ ہو۔افتتاح سے ایک روز قبل حضور نے خود تمام انتظامات کا معائنہ فرمایا۔اس مسجد کا نقشہ چوہدری عبد الرشید صاحب، سابق پروفیسر انجینئر نگ یو نیورسٹی لاہور نے تیار کیا اور مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب اور دیگر انجینئر ز صاحبان نگرانی اور مشورہ کے لئے ربوہ تشریف لا کر خدمات سرانجام دیتے رہے۔(۲) ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء کو حضور نے ایک خطبہ جمعہ کے ساتھ مسجد کا افتتاح فرمایا۔جمعہ میں اہالیانِ ربوہ